اسلام آباد، 30 اپریل (اے پی پی): پاک افغان ٹریک ٹو سمینار کے موقع پرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جنگ افغان مسئلے کا حل نہیں یہ مسلہ پر امن بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔پاکستان افغان مفاہمتی عمل میں توقعات سے بھی زیادہ تعاون کر رہا ہے لیکن اپنے مستقبل کے بارے پر فیصلہ بالاخر افغان عوام اور حکومت نے کرنا ہے ، انہوں نے کہا کہ ہم سہولت کار بن سکتے ہیں فیصلے نہیں کر سکتے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام ہو۔افغانستان میں امن ہوگا تو اس کے پاکستان کیلئے بھی بے پناہ فوائد ہیں جیسے کہ علاقائی روابط کی راہیں کھل جائیں گی، تجارت شروع اور انرجی فلوہوگی تو بھی مزید راستےکھل جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ ماضی میں پھنسے رہنا ہے یا آگے بڑھنا ہے۔پاکستان نے وہ کچھ کیا جو کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ چین میں منعقدہ بیلٹ اینڈ روڈ فورم ( بی آر آئی فورم )کے موقع پر وزیر اعظم خان اور روس کے صدر ولادیمیر پوٹن کے درمیان کوئی طے شدہ پروگرام نہیں تھا۔ انہوں نے مزید بتا یا کہ وزیراعظم عمران خان کی روس کے صدر سے عنقریب ملاقات بھی ہونے والی ہے۔
وی این ایس،اسلام آباد











