راولپنڈی،29اپریل (اے پی پی ): پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کی آئی ایس پی آر نے بھارت کو خبر دار کیا ہے کہ جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں، بھارت کچھ کرنا چاہتا ہے تو پہلے اپنے جہازوں کا گرنا ذہن میں رکھے، یہ 1971 ہے نہ وہ فوج اور حالات، صبر کا امتحان نہ لیا جائے، آپ نے کہا ایٹمی اثاثے دیوالی کیلئے نہیں، تو آئیں ہم بھی تیار ہیں، پاکستان اپنے دفاع اور سلامتی کے لئے ہر صلاحیت کو استعمال کریگا۔
میڈیا کو بریفنگ میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارت پر منحصر ہے کہ وہ خطے میں امن و سلامتی کے لئے بات چیت کی میز پر آتا ہے یا 27فروری کو دوہرانا چاہتا ہے پاک فضائیہ کے طیاروں کے میزائل حملے کے بعد بھارتی اسلحہ ڈپو میں کتنا اسلحہ ایسا ہے جو استعمال کے قابل نہیں رہا ،اس رات بھارت کو کتنے مقاما ت پر اپنی گن پوزیشن تبدیل کرنا پڑی ،بھارت پاکستان کا رویہ تو نہیں بدل سکا لیکن پاکستان نے بھارت کا رویہ ضرور بدلہ ہے ، بھارت کے ساتھ حالیہ 3دن کی جنگ میں اس سے بہتر نہیں ہوسکتا تھا۔
میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پشتون تحفظ موومنٹ سے قانونی دائرے میں رہتے ہوئے پانچ سوالات پوچھے ہیں ،این ڈی ایس ،راءسے پیسے لینے ،پاکستان مخالف شخصیات سے بیرون ممالک میں ملاقاتوں اور کابل ،جلال آباد میں بھارتی قونصلیٹ میں جانے اور پیسے لینے کے الزامات ثابت ہوئے تو قانون کے مطابق کارروائی بھی کی جائے گی ،پی ٹی ایم پاکستان اور افواج مخالف ایجنڈے پر چل رہی ہے، پی ٹی ایم فیصلہ کر لے کہ وہ پاکستان کا حصہ ہے یا کسی اور کا حصہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت دہشت گردی کا کوئی منظم ڈھانچہ موجود نہیں ہے ،دہشت گرد تنظیموں بشمول داعش کو پاؤں گاڑنے نہیں دیں گے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ حکومت کے ساتھ ملکر تیس ہزار مدارس کو قومی دھارے میں لانے کی حکمت عملی پر کام شروع کر دیا گیا ہے ،پہلی مرتبہ حکومت نے مدارس کو قومی دھارے میں لانے کے لئے دو اعشاریہ سات ارب فراہم کیے ہیں ،مدارس میں اسلام اور دین کی تعلیم ویسے ہی جاری رہے گی صرف اشتعال انگیز مواد شامل نہیں ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ پاک ایران سرحد کو آرمی چیف نے بھی امن کی سرحد قرار دیا یہاں پر دوطرفہ تعاون کا میکنزم بنایا جائے گا۔
وی این ایس، راولپنڈی











