اسلام آباد ، یکم مئی (اے پی پی):دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل خان نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندی کمیٹی کے سیاسی استعمال کی مخالفت کی ہے، جن تکنیکی قواعد و ضوابط کے تحت اس فہرست میں افراد کے نام شامل کئے جاتے رہے ہیں پاکستان نے ہمیشہ اس کے احترام کی ضرورت پر زور دیا، مولانا مسعود اظہر کو پلوامہ حملے سے جوڑنے ، کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو بدنام کرنے کی کوششوں کو ہم نے ناکام بنایا، پاکستان کا یہ عزم ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی کالعدم تنظیم کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
بدھ کو دفتر خارجہ میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل خان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پابندی کمیٹی میں مولانا مسعود اظہر کا نام شامل کر لیا ہے۔ جس کے تحت ان پر بیرونی سفر پر پابندی، ان کے اثاثے منجمد اور “آرمز ایمبارگو” لگایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2009ءکے بعد کئی سالوں تک اقوام متحدہ کی پابندیوں کی کمیٹی میں مولانا مسعود اظہر کو شامل کرنے کے حوالے سے غور ہو رہا تھا۔ پاکستان کے انسداد دہشتگردی کے قانون کے تحت بھی بعض اوقات ان کا نام تجویز کیا جاتا رہا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندی کمیٹی واضح قوانین اور سخت تکنیکی معیار کی بنیاد پر چل رہی ہے۔ کمیٹی کے تمام فیصلے اتفاق رائے سے کئے جاتے ہیں۔ کمیٹی کا طریقہ کار تمام ممبران کو اجازت دیتا ہے کہ وہ تکنیکی بنیادوں پر کسی بھی معاملے کو مزید غور کیلئے اور کسی معاملے پر اجتماعی سمجھ بوجھ تک پہنچنے کیلئے اضافی وقت لے۔ مختلف لوگوں کے نام فہرست میں شامل کئے جانے کے حوالے سے مختلف ممالک نے تکنیکی بنیادوں پر وقت لیا۔ پاکستان نے ہمیشہ ان تکنیکی قواعد و ضوابط کے احترام کی ضرورت پر زور دیا اور اس کمیٹی کے سیاسی بنیادوں پر استعمال کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل سلامتی کونسل کی پابندیوں کی حامل کمیٹی مسعود اظہر پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں ناکام ہوگئی تھی۔ کیونکہ ان سے متعلقہ انفارمیشن متعلقہ تکنیکی معیار پر پورا نہیں اترتی تھی۔ یہ تجاویز پاکستان کو بدنام کرنے اور کشمیریوں کی تسلیم شدہ حق خودارادیت کی جدوجہد کو بدنام کرنے کیلئے تھی۔ پاکستان نے انہیں مسترد کیا اور پاکستان نے ہمیشہ قرار دیا کہ کسی بھی شخص کا نام شامل کرنے کی قرارداد اتفاق رائے سے ہونی چاہئے اور بامقصد مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے ہونی چاہئے اور یہ عمل 1267 کمیٹی فریم ورک اور سیاست سے پاک ہونا چاہئے۔ گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان سمیت مختلف ممالک نے اس کمیٹی کے بشمول اس کمیٹی کی تکنیکی معیار سے غیر متعلقہ معاملات کو شامل کرنے کی کوششوں سمیت سیاست کے نظر ہونے کے بڑھتے ہوئے رجحانات پر تشویش کا اظہار کیا۔اس کیس میں ہم نے دیکھا کہ سیاسی عزائم کی کوشش بھارتی میڈیا کی جانب سے خصوصاً اور عمومی طور پر اس معاملے سے متعلقہ معاملات کو جان بوجھ کر لیک کیا گیا جو کہ انتہائی خفیہ معاملہ تھا۔ حالیہ فہرست کی تجویز تمام سیاسی حوالوں کے بعد اتفاق کیا گیا جس میں انہیں پلوامہ حملے کے ساتھ جوڑنے کی کوششوں کے خاتمے، مقبوضہ کشمیر میں جاری حق خودارادیت کی کشمیریوں کی جدوجہد کو بدنام کرنے سے روکنے اور حق خود ارادیت کی جدوجہد کا ادراک کرنا شامل تھا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کو دنیا کیلئے عفریت سمجھتا ہے اس میں مقبوضہ کشمیر میں معصوم کشمیریوں کے خلاف بھارت کی سرپرستی میں ریاستی دہشتگردی، پیلٹ گنز کے غیر انسانی استعمال بھی دہشتگردی کی ایک مثال ہے۔ بھارتی مسلح افواج کشمیریوں کے قتل عام پر عدالتی استثنیٰ سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔ انہیں کالے قوانین کے تحت یہ استنثیٰ حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے کشمیریوں بھائی کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔
ترجمان نے کہا کہ بھارتی میڈیا کی جانب سے مسعود اظہر کا نام شامل کئے جانے کو بھارتی بیانیے کو بھارتی کامیابی قرار دینے کی کوشش کی گئی۔ ان کا یہ دعویٰ قطعی بے بنیاد اور غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پوزیشن وزیراعظم عمران خان کے اس بیان کی روشنی میں واضح ہے کہ جس میں انہوں نے کہا کہ کالعدم تنظیموں یا اس کے ساتھ وابستہ افراد کی پاکستانی سرزمین پر کوئی جگہ نہیں ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشتگردی کی کسی بھی صورت خاتمہ ہمارا عزم ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ افغانیوں کی قیادت میں امن عمل کی حمایت کرتے ہیں۔
سورس:وی این ایس، اسلام آباد











