پاکستان یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو نہایت اہمیت دیتا ہے: شاہ محمود قریشی

394

برسلز،25جون(اے پی پی ):وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو نہایت اہمیت دیتا ہے۔ یورپی یونین نہ صرف پاکستان کا ایک روایتی حلیف ہے بلکہ ایک معاشی شراکت دار بھی ہے۔ ہمارا تعاون جمہوریت، کثیرالشراکتی، باہمی ہم آہنگی اور احترام کی مشترک اقدار پر مبنی ہے۔

یورپی یونین کی سیاسی وسلامتی کمیٹی سے خطاب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ یورپی یونین کی خارجہ اور دفاعی حکمت عملی تشکیل دینے میں چونکہ اس کمیٹی کا نمایاں کردار ہے، اس لئے مجھے پوری امید ہے کہ آج کی اس نشست میں، میں آپ کو جنوبی ایشیاءکے خطے کے سیاسی وسلامتی کے مضمرات سے مزید آگاہ کرسکوں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ  پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں آج ایک اہم  دن ہے،آج یورپین یونین کی اعلی نمائندہ فیڈریکا موغرینی اور میں “سٹرٹیجک اینگیجمنٹ پلان” پر دستخط کریں گے۔ ‘ایس ای پی’ سے ہمارے تعلقات میں ایک نیا معیاری مرحلہ آئے گا اور شراکت داری مزید گہری ہوگی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دنیا اس وقت بڑی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے،تنازعات پیچیدہ تر ہورہے ہیں اور نئے تنازعات ابھرکر سامنے آرہے ہیں، دہشت گردی کے نئے خطرات میں اضافہ ہورہا ہے جن کا ہمیں پہلے سامنا نہیں تھا، ‘ہائیبرڈ’ اور ‘سائیبر’ خطرات سے پیدا ہونے والے چیلنجز کا بھی ہمیں سامنا ہے اور وہ نئی شکل میں دنیا کی سلامتی کے لئے مسائل کو جنم دے رہے ہیں۔معاشروں کے اندر تیزی سے تبدیلیاں وقوع پذیر ہو رہی ہیں۔ عدم برداشت اور انتہاءپسندی بڑھ رہی ہے، قوم پرست اور دائیں بازو کی قوتیں طاقتور ہورہی ہیں، غیرملکیوں سے نفرت اور اسلام سے خوف تہذیبوں کے تصادم کے گمراہ کن نظریات کو تقویت دے رہا ہے۔یہ تمام رجحانات مشترکہ طورپر خطوں کے اندر اور ان سے باہر امن وسلامتی کے لئے ایک فوری خطرہ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہاءپسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے پاکستانی قوم پرعزم ہے۔ آپریشن “ضرب عضب” اور “ردالفساد” نے اس ضمن میں عظیم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ‘نیشنل ایکشن پلان’ پر عمل درآمد کے ثمرات کے نتیجے میں ملک کے طول وعرض میں شہروں اور قصبات میں امن اور خوشحالی کافی حد تک لوٹ آئی ہے۔داخلی اور بین الاقوامی سطح پر سیاحت کا فروغ دہشت گردی کے خلاف ہماری اس کامیابی کا عملی ثبوت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ نے اسلام آباد کا ‘فیملی سٹیشن’ کا درجہ بحال کردیا ہے۔

 انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان امن، تحمل اور پرامن بقائے باہمی کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے۔ ہم بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے رہنما اصولوں پر کاربند ہیں جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ”ہماری خارجہ پالیسی تمام اقوام عالم کے ساتھ دوستی اور خیرسگالی کی حامل ہے”۔بھارت کے ساتھ امن اور رابطے استوار کرنے کی پیشکش اور کشمیر سمیت تمام تنازعات پر بات چیت کے لئے ہماری آمادگی، افغانستان پاکستان ایکشن پلان برائے امن واخوت (اے پی اے پی پی ایس) اس امر کا واضح مظہر ہے۔ہم نے حال ہی میں کرتار پور راہداری کھولنے کا اقدام بھی ہمسایوں سے جڑنے اور امن کی جستجو میں کیا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہاکہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کے عوام کو سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت فراہم کررہا ہے جو اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی منظور کردہ مختلف قراردادوں کے تحت اپنا حق استصواب رائے مانگ رہے ہیں۔ بھارت کشمیریوں کی مقامی اور قانونی طورپر جائز جدوجہد کو “دہشت گردی” کے ذریعے دبانے کی کوشش کررہا ہے، طاقت کے بہیمانہ استعمال کے نتیجے میں مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں ہورہی ہیں۔

وی این ایس، اسلام آباد