اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی ہالینڈ کے سفیر ولیئم واؤٹر پالمپ سے گفتگو

126

اسلام آباد ۔ 18 فروری (اے پی پی): سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ایف اے ٹی ایف کے فورم اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیر ی عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے ہالینڈ کو پاکستان کے ساتھ تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں موجودہ حکومت نے سخت مالی ضابطوں کے نفاذ کے ذریعے دہشت گردوں کی مالی معاونت کی فراہمی منقطع کر دی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہالینڈ کے سفیر ولیئم واؤٹر پالمپ سے گفتگو کر تے ہوئے کیا جنہوں نے منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ان سے ملاقات کی۔ سپیکر نے کہا کہ ہالینڈ نے ہمیشہ سے انسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہالینڈ کو مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں اور مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے بھارت پر دباؤ ڈالنے کےلئے کردار ادا کرنے ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالی پر عالمی برادری کی خاموشی ناقابل فہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 198 دن کے لاک ڈاﺅن سے مظلوم کشمیریوں کی پریشانیوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری لاک ڈاﺅن کی وجہ سے کشمیری عوام اپنے ہی گھروں میں قید ہیں اور خوراک، طبی سہولیات سمیت تمام بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں۔ کشمیری عوام کی تحریک آزادی کی جدوجہد پر ان کے غیر متزلزل عزم کو سلام پیش کرتے ہوئے سپیکر نے کہا کہ 72 سال گزرنے کے باوجود کشمیری عوام کے عزم اور حوصلے میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ایف اے ٹی ایف کے معاملہ کا حوالہ دیتے ہوئے سپیکر اسد قیصر نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کےلئے نیدرلینڈز کو کردار ادا کرنے کےلئے کہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی اور اس کے مالی معاونین کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کےلئے کوشاں ہے اوراس مقصد کے حصول کےلئے قانون سازی کے ذریعے متعدد اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتہاءپسندی اور عسکریت پسندی کی ناسورکی وجہ سے پاکستان کو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات اٹھانا پڑے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے عزم اور جذبہ حب الوطنی اور لازوال قربانیوں کی بدولت پاکستان دہشت گردی کی اس لعنت پر قابو پانے میں کامیابی کی راہ پر گامزن ہے۔ ہالینڈ کے ساتھ پاکستان کے تاریخی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے سپیکر نے کہا کہ پاکستان ہالینڈ کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور پارلیمانی اور اقتصادی تعاون کے ذریعے انہیں مزید مستحکم بنانے کا خواہاں ہے۔ سپیکر نے دونوں ممالک کی پارلیمانی کمیٹیوں کے مابین روابط کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ نیدرلینڈ آلو کے بیج، ڈیری فارمنگ لائیوسٹاک اور کمرشل بنیادوں پر پھولوں کی افزائش کے شعبوں میں مہارت رکھتا ہے۔ انہوں نے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے زرعی پیداوار اور ہالینڈ کی پارلیمانی کمیٹی برائے زراعت کے مابین مذکورہ شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت کی تجویز دی۔ سپیکر نے سی پیک سے پیدا ہونے والے معاشی مواقع میں ہالینڈ کے سرمایہ کاروں شرکت کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطہ کےلئے گیم چینجر کی اہمیت کا حامل ہے، اس سے خطہ میں روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو گا اور ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔ ہالینڈ کے سفیر مسٹر ولیئم واؤٹر پلمپ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مسئلہ کشمیر علاقائی امن کےلئے ایک فلیش پوائنٹ کی حیثیت رکھتا ہے اور اس مسئلہ کو کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک دہشت گردی کی مالی معاونت کے خاتمہ کےلئے سخت اقدامات کرنے پر حکومت پاکستان کی کوششوں کو سراہتا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ہالینڈ ایف اے ٹی ایف کی گرئے لسٹ سے نکالنے کےلئے پاکستان کی بھرپور مدد کرے گا۔ انہوں نے گذشتہ چار دہائیوں سے افغان مہاجرین کی میزبانی اور مدد کرنے پر پاکستان کی تعریف کی۔ سفیر نے پارلیمانی دوستی گروپ کی سطح پر ملاقاتوں اور دوروں کے ذریعے دونوں ممالک کے مابین پارلیمانی رابطوں کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔ سفیر نے سپیکر کو یقین دلایا کہ ڈچ سرمایہ کار پاکستان میں معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہالینڈ اور پاکستان کے مابین زراعت کے شعبہ میں باہمی تعاون طویل عرصہ سے جاری ہے تاہم ، ڈیری، ماہی گیری اور فلوریکلچر سیکٹرز میں تعاون بڑھانے کی تجویز سے اتفاق کیا۔ انہوں نے پلانٹ بریڈرز کے حقوق کے تحفظ کےلئے قانون سازی اور قوانین پر سخت عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔

وی این ایس، اسلام آباد

Download Video