قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا پاکستان میں کرونا وائرس کیسز پر تشویش کا اظہار

143

اسلام آباد، 27 فروری (اے پی پی ): قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس چئیرمین کمیٹی خالد مگسی کی زیر صدارت وزارت صحت میں ہوا۔ اجلاس میں پاکستان میں کرونا وائرس کیسز  پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

 پارلیمانی سیکریٹری برائے صحت نوشین حامد نے اجلاس کو بتایا کہ کرونا وائرس کے خلاف عوامی آگاہی کی مہم چل رہی ہے ،یہ وائرس پہلی دفعہ پاکستان آیا  ہے اس لئے زیادہ معلومات نہیں ہیں۔اگر یہ وائرس انفلوئنزا کی فیملی سے ہے تو گرمی میں خود ہی مر جائے گا۔ انہوں نےکہا کہ کرونا کے کیسز زیادہ ہونے شروع ہو گئے تو لوگ شہر چھوڑ کے بھاگ جائیں گے اور ہمارے پاس وائرس سے نمٹنے کی ویکسینیشن ہے ہی نہیں ۔

چئیرمین کمیٹی خالد مگسی نے کہا نتیجہ یہ ہے کہ چائنہ ایک کنٹرولڈ ملک ہے پاکستان میں کرونا وائرس کے خلاف لڑنا مشکل ہوجائے گا ،وائرس کے خلاف ہمارا اللہ لڑے گا ،ہمارے پاس وائرس سے نمٹنے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ رمیش لعل نے کہا کرونا وائرس آنے کے ساتھ ہی ماسک ختم ہوگئے ،انہوں نے کہا ایران میں چار دن پہلے کرونا وائرس پہنچا اور تیزی سے پھیل گیا ہمارے لوگوں کو ذمہ داری کا ثبوت دینا ہوگا پڑھے لکھے بچے بھی ماسک نہیں پہن رہے۔

ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ نے کہا چائنہ میں کرونا کے خلاف سپرے کیا جا رہا ہے،  ہمیں ڈینگی کی طرح کرونا کے لئے بھی سپرے کا بندوبست کرنا پڑے گا،  دیگر ممبران کا کہنا تھا کہ ہم کچھ زیادہ ہی پر امید ہو گئے تھے کہ وائرس پاکستان نہیں آئے گا، صرف باڈی ٹمپریچر چیک کرنے سے کیا ہوتا ہے، ایران میں چار دن میں 65 اموات ہو چکی ہیں ۔

اے پی پی /ضیا/حامد