اسلام آباد ، 25فروری (اے پی پی): وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں کاٹن کی بحالی اور اس شعبے میں ملکی استعداد سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے حوالے سے تمام متعلقین کے درمیان پائے جانے والے اتفاق رائے پر اطمینا ن کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ کاٹن کی بحالی سے کسان اور ٹیکسٹائل کے شعبے کو فائدہ پہنچے گاجس کے نتیجے میں ملکی معیشت میں بہتری آئے گی۔
وزیرِ اعظم عمران خان نے منگل کو ملک میں کپاس کی بحالی کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوے کہا کہ ایک زرعی ملک ہونے کے ناطے زرعی شعبے میں ریسرچ کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت کی جانب سے نیشنل ایگریکلچر ایمرجنسی پروگرام کا مقصد زرعی شعبے کو درپیش مسائل کو دور کرتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی کا فروغ اور پیداوار میں اضافے کو یقینی بنانا ہے۔
اجلاس میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی، جہانگیر خان ترین، وزیرِ برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی مخدوم خسرو بختیار، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، مشیر ماحولیات ملک امین اسلم، سید فخر امام، وزیر زراعت پنجاب نعمان لنگڑیال، وفاقی و صوبائی سیکرٹری صاحبان، کاٹن سے منسلک ماہرین، ایپٹما، سیڈ سیکٹر، ادویات، کسان اتحاد کے نمائندگان و دیگر متعلقہ افراد نے شرکت کی-
اجلاس میں ملک میں کاٹن کی موجودہ صورتحال، کاٹن کو درپیش چیلنجز، پیداواری لاگت سے متعلقہ مسائل، ریسرچ اداروں اور سیڈ سیکٹر سے متعلقہ معاملات، کپاس کی فصل کو کیڑوں مثلاً وائٹ فلائی، پنک بال وارم سے بچاؤ کے حوالے سے درپیش چیلنجز پر قابو پانے کے لئے مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گی۔
اجلاس میں کاٹن کے شعبے میں ریسرچ کو موثر بنانے کے لئے پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کی تنظیم نو ، سیڈ سیکٹر میں اصلاحات اور سیڈز کی منظوری کے عمل کو آسان، تیز تر اور سہل بنانے اور پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کی تنظیم نو کے ذریعے ادارے کو خودمختار بنانے اور نجی شعبے کو موثر نمائندگی دینے کا فیصلہ کیا گیا-کپاس کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں پر قابو پانے کے لائحہ عمل کی منظوری بھی دی گی۔
تنظیم نو کے بعد پی سی سی سی وزارتِ نیشنل فوڈ سیکیورٹی، وزارت ٹیکسٹائل کے سینئر نمائندگان، کاٹن کمشنر، محکمہ زراعت کے صوبائی سیکرٹری صاحبان، ٹیکسٹائل سیکٹر کے چار نمائندگان، کاٹن جنرز کے دو نمائندگان، کاٹن ٹریڈرز کے نمائندے، سیڈ پروڈیوسرز کے دو نمائندگان، چار کسان نمائندوں، ایک ماہر اور چیف ایگزیکیٹو پر مشتمل ہوگی۔
کمیٹی کو موثر بنانے کی غرض سے مطلوبہ مالی وسائل کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے کاٹن سیس کے ضمن میں حکومت اور ایپٹمامیں مکمل اتفاق کیا گیا اور حکومت کی جانب سے پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کے لئے ریسرچ انڈومنٹ فنڈ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ۔
اجلاس میں ریسرچ کے شعبے میں بہتری کے لئے تمام ضروری اقدامات بشمول کاٹن سیس ایکٹ 1923میں ترمیم، ماہر افرادی قوت پورا کرنے اورریسرچ انڈومنٹ کے قیام کے لئے ٹائم لائنز پر مبنی روڈ میپ، سیڈ ورائٹی کی منظوری کے عمل کو تیز اور سہل بنانے کے لئے طریقہ اور کاٹن سیزن 2020کے حوالے سے ضروری اقدامات کو بھی منظور کیا گیا۔
اجلاس میں ٹرانسجینک ٹیکنالوجی متعارت کرانے کے لئے اعلیٰ سطحی کاٹن ٹیکنالوجی اسٹیرنگ کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا اور اس ضمن میں سیکرٹری نیشنل فوڈ سیکیورٹی کی سربراہی میں ایگزیکیٹو کمیٹی اپنی سفارشات وزیرِ اعظم کو پیش کرے گی۔ سیڈز کے حوالے سے وفاق اور صوبائی حکومتوں کے مابین معاملات کے حل کے لئے وفاقی اور صوبائی نمائندگان پر مشتمل کمیٹی کے قیام کا فیصلہ بھی کیا گیا اور کمیٹی کو31مارچ تک تمام معاملات حل کرنے کا ٹاسک سونپ دیا گیا۔
اجلاس میں کاٹن کی ممکنہ قیمت (انڈیکیٹو پرائس) کے تعین کے لئے وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری کامرس، سیکرٹری ٹیکسٹائل اور پرائیوٹ سیکٹر سے تعلق رکھنے والے دیگر اسٹیک ہولڈر (ایپٹما، جنرز، کسان) پر مشتمل کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا اور کہا گیا کہ کمیٹی کاٹن سیزن 2020شروع ہونے سے قبل اپنی سفارشات پیش کرے گی۔
اجلاس میں ایپٹما، کسان اتحاد، سیڈ سیکٹر و دیگر متعلقین نے کاٹن کی بحالی کے حوالے سے منظور کیے جانے والے روڈ میپ پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کاوشوں کی مکمل حمایت کا یقین دلایا-
وی این ایس اسلام آباد











