27فروری کادِن تاریخ میں ایک اور روشن باب ہےجس پر ہر پاکستانی کو فخر ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار

116

راولپنڈی ، 27 فروری(اے پی پی ): پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ 27فروری کادِن اب ہماری تاریخ میں ایک اور روشن باب ہے۔ جس پر ہر پاکستانی کو بجا طور پر فخر ہے ہماری 73سالہ تاریخ میں پاکستان پر جب بھی مشکل وقت آیا،  عوام اور افواجِ پاکستان نے اُس کا بڑی بہادری اور جُرات سے مقابلہ کیا۔

جمعرات کو  یہاں بحیثیت ڈی جی آئی ایس پی آر اپنی پہلی پریس بریفنگ سے خطاب کرتے  ہوئے  انہوں نے کہا کہ  پاکستان کی مسلح افواج اور پوری قوم کسی بھی قسم کے مِس ایڈو نشر کا بھرپور جواب دینگے  کیلئے  ہر وقت تیار ہے۔ 14فروری 2019کو پَلوامہ واقع کے بعد انڈیا نے پاکستان پر بغیر کسی ثبوت اور بنا کسی تحقیق کے بے جا الزامات لگائے۔

انہوں نے  کہا کہ  سچ صرف ایک با ر بولنا پڑتاہے، ہم مکمل طور پر تیار تھے جس میں سرپرائز کی ناکام کوشش کرنے والا دُشمن خود سرپرائز ہوگیا۔  پاکستان نے گذشتہ سال آج کے دن “دِن کی روشنی میں دشمن کو بھرپور موثر جواب دیا”۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ آج کا دِن اُن تمام شہدا کے نام  جنہوں نے1947سے لے کر آج تک دفاعِ وطن کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ہم اُن تمام ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور شہدا کے لواحقین کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنے پیارے اِس وطن کے تحفظ پر نچھاور کر دئیے۔آج کا دِ ن یوم تشکر بھی ہے اور یومِ عزّم بھی، خطرات اندورنی ہوں یا بیرونی،  جنگیں حبّ الوطنی کے جذبے،  عوام کے اعتماد اور سپاہ کی قابلیت پر لڑی جاتی ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ  بوکھلاہٹ میں اندرونی انتشار سے توجہ ہٹانے کے لیے بھارت کشمیر میں جو کھیل  کھیل رہا ہے، پاکستان کی سول اور عسکری قیادت اِ س سے بخوبی آگاہ ہیں۔ بھارت کی جانب سےپچھلے17سالوں میں 2018 میں سب سے زیادہ  جانی نقصان ہوا جبکہ لائن آف کنٹرول  پر  2019 میں سب سے زیادہ   سیز فائر  معاہدہ کی  خلاف  ورزی  ریکارڈ کی گئی۔پاک فوج نے  لائن آف کنٹرول پر بڑھتی ہوئی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے اور دیتے رہیں گے۔ ہماری بھرپور جوابی کارروائی سے انڈین فوج کوبھاری جانی اورمالی نقصان اُٹھانا پڑا ہے۔

میجر جنرل بابر نے کہا کہ ہم ایک ذمہ دار پروفیشنل فورس ہیں، صرف ملٹری اہداف کو ٹارگٹ کرتے ہیں جبکہ انڈین آرمی نہتے لوگوں پر فائر کرتی ہے۔ بھارت کی سول اور ملٹری قیادت کے حالیہ غیر ذمہ دارانہ بیانات MilBuild  کو ہم انتہائی سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔اگر خِطے میں جنگ چھڑی تو اس کے  نتائج بے قابو ہوں گے۔

انہوں نے  کہا  کہ کشمیر  بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک بین الاقوامی تسلیم شدہ تنازعہ ہے جس کے پُرامن حل کیلئے اقوامِ متحدہ کی قراردادیں موجو د ہیں۔  گزشتہ207دِنوں میں مقبوضہ کشمیرکے عوام پچھلے73سال سے جاری ظلم وستم کی انتہا پر ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں زندگی مفلوج ہے اور کشمیریوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے اور ایک   مکمل لاک ڈاؤن ہے۔انہوں نے کہا کہ اب یہ مسئلہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان صرف نظریاتی یا جغرافیائی تنازعہ نہیں رہا بلکہ  عالمی تاریخ میں انسانی حقوق کی پامالی کا سب سے بڑا اَلمیہ بن رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جینوسائیڈ واچ ،انسانی حقوق کی تنظیموں اور انٹرنیشنل میڈیا نے شدید لاک ڈاؤن کے باوجود بھارت کی اس ریاستی دہشت گردی کو دُنیا کے سامنے بے نقاب کیا ہے۔ عالمی طاقتوں اور اہم عالمی سربراہان نے بھارت کے اس ظلم وستم پر اپنی تشویش کا بَرملا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کا حل نہ صرف ہمارا قومی مفاد ہے بلکہ قومی سلامتی کا ضامن ہے۔ اس  لیے آزادی کی اس جدوجہد میں ہم کشمیریوں کے ساتھ تھے،   ہیں اور  رہیں گے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پچھلے 20سال میں افواج پاکستان پوری قوم قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں نے دہشت گردی کے خلاف ایک کامیاب جنگ لڑی ہے۔ ہم دُنیا کا واحد ملک، قوم اورا فواج ہیں جس نے نہ صرف دہشت گردی کا مقابلہ کیا بلکہ خطے او عالمی امن کے لیے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ ہم نے اس کامیابی کی بہت بھاری قیمت ادا کی ہے، 80ہزار سے زیادہ جانی قربانیاں دیں اور معاشی طور پر 180بلین ڈالر کا نقصان اُٹھایا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا نہیں کیا جاسکتا پاکستان کی انٹرنیشنل relevance مخالف قوتوں کی تمام تر کوششوں کے باوجود  نہ کم ہوئی اور نہ کم ہو گی۔     دہشت گردی(Terrorism) سے   سیاحت(Tourism)  کا سفر انتہائی متاثر کن اور صبر آزما تھا۔ امن کی جانب اس سفر میں پوری قوم اور میڈیا نے دہشت گردوں کےبیانیئے کو شکست دینے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

اقلیتوں کے حوالے  سے  انکا کہنا تھا کہ ہم اپنے پرچم کے سفید رنگ و قدر کی نگاہ سے دیکھتے اور پاکستان کے لیے اُن کی قربانیوں کو سلام پیش کر تے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم سب کی منزل ایک پُر امن اور مستحکم پاکستان ہے اور ہم اُس کی طرف گامزن ہیں۔

سورس:و ی  این ایس،  اسلا  م آباد