اسلام آباد، 6 مارچ (اے پی پی): سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا۔ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر ز شریں رحمن اور سسی پلیجو کی طرف سے 10جنوری 2020کو سینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے توجہ دلائے گئے نوٹس برائے کے ملک میں سخت سردی کے موسم میں گیس کی کمی، ارٹیکل 158کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سند ھ کو گیس کی کم سپلائی اور سینیٹر سکندر مندرو کے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے قدرتی گیس کی صوبوں میں تقسیم، آئل اور گیس کے نئے ذخائر کی دریافت، لورالائی اور دکی ضلع زیارت میں گیس کی پائپ لائنیوں میں گیس جم جانے کے حوالے سے بریفنگ کے علاوہ پی ایم ڈی سی کے معاہدے کی تجدید کے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔
قائمہ کمیٹی نے صوبہ سندھ میں گیس کی قلت کے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا کمیٹی کو بتایا گیا کہ سندھ میں گیس کی قلت کے حوالے سے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں معاملے کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی اُس کی رپورٹ کا انتظار ہے رپورٹ کمیٹی کو بھی فراہم کر دی جائے گی کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ وزیراعظم کے مشیر پیٹرولیم ندیم بابر اگلے ہفتے سندھ حکومت کے وزیر توانائی اور متعلقہ حکام سے تفصیلی مشاورت کریں گے اور بہتری کیلئے لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔ سندھ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ کی گیس کی پیداوار 25سو سے 26سو ایم ایم سی ایف ڈی ہے جبکہ موسم سرما میں طلب 1500سے 1750ایم ایم سی ایف ڈی ہے تاہم سپلائی 900سے 1ہزار ایم ایم سی ایف ڈی کی جاتی ہے۔ڈی جی پی سی اور او جی ڈی سی ایل کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ تیل اور گیس کی تلاش کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں 2018-19میں نئے تیل و گیس کے ذخائر بھی دریافت ہوئے ہیں اسوقت 30کمپنیاں تیل و گیس کی دریافت میں مصروف عمل ہیں۔ ڈسٹرکٹ لورالائی اور دکی کو گیس کی سپلائی کے حوالے سے آگاہ کیا گیا کہ سنجاوی کے مقام پر ایئر مکس پلانٹ کے ذریعے گیس کی فراہمی کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے حوالے سے کمیٹی نے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا قائمہ کمیٹی نے وزارت پیٹرولیم کو ہدایت کی کہ پی ایم ڈی سی کے ساتھ مل کر معاہدے کی تنسیخ کا جائزہ لیا جائے اور درخواست دہندہ کے معاہدے کی تجدید کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جائیں اور مسئلے کا مناسب حل نکال کر قائمہ کمیٹی کو رپورٹ پیش کی جائے کمیٹی کو بتایاگیا کہ پی ایم ڈی سی کو 1996میں لیز دیا گیا تھا جو 2017میں منسوخ کر دیا گیا اور اس سلسلے میں متعلقہ کنٹریکٹر کو نوٹس بھی بھیجے گئے مگر جواب نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے لیز منسوخ کر دیا گیا۔
کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز شمیم آفریدی، بہرامند تنگی، میر محمد یوسف بادینی، لیفٹینٹ (ر)صلاح الدین ترمذی، تاج محمد آفریدی کے علاوہ وزارت پیٹرولیم، ایس ایس جی سی، ایس این جی پی ایل، پی پی ایل، او جی ڈی سی کے حکام نے شرکت کی۔
اے پی پی / سہیل /فاروق











