وزیراعظم آزادکشمیر سے او آئی سی کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل کی   ملاقات ،، مقبوضہ کشمیر اور ایل او سی  کی تازہ ترین صورتحال پر بریفنگ دی گئی

155

مظفرآباد، 05 مارچ (اے پی پی ): وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان سے او آئی سی کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل ڈاکٹر یوسف ایلڈوبے نے   جمعرات کو  یہاں  ملاقات کی جس میں  وفد کو مقبوضہ کشمیر اور لائن آف کنٹرول کی تازہ ترین صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔

اس موقع پر وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا  کہ  اوآئی سی کے وفد کو آزادکشمیر آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں ،کشمیریوں کو آو آئی سی سے جو توقعات وابستہ تھیں بدقسمتی سے ابھی تک پوری نہیں ہوئیں ، کشمیر کے حوالے سے او آئی سی سربراہ اجلاس بلایا جانا ناگزیر ہے ۔انہوں نے کہا کہ5 اگست کے بعد مقبوضہ کشمیر کے اسی لاکھ عوام محاصرے میں ہیں۔ 13 ہزار نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں 144 بچے 9 سال سے کم عمر کے ہیں ۔1989 سے لیکر اب تک 10 ہزار سے زائد لوگ غائب ہیں جبکہ 6228 گمنام قبریں بھی ملی ہیں ۔

وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ او آئی سی ہندوستان پر دباو ڈالے کہ کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دیا جائے ۔او آئی سی کا وفد مقبوضہ کشمیر بھی جائے اور وہاں جاکر عام لوگوں کے تاثرات جانے ۔انہوں نے  کہا  کہ ہندوستانی فوج کو مقبوضہ کشمیر میں قتل عام اور کشمیری عورتوں کی اجتماعی آبروریزی کی کھلی چھوٹ ہے ۔ایک لاکھ لوگ شہید کردیے گئے آج تک کسی ایک ہندوستانی فوجی کو سزا نہیں ہوئی ۔

وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ ہندوستان نے فوجیوں کے تحفظ کے لیے خصوصی قانون بنایا ہوا ہے ۔ لائن آف کنٹرول پر ہندوستانی فوج کلسٹر بم استعمال کررہی ہے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔ ہندوستانی فوج کی فائرنگ سے بازار گھر ہسپتال مسافر بسوں تک کچھ بھی  محفوظ نہیں ۔انہوں  نے   کہا کہ  پاکستانی فوج دوسری جانب شہری آبادی پر فائرنگ نہیں کرتی کیونکہ مقامی لوگ مسلمان اور پاکستان کے حمایتی ہیں ،او آئی سی امت واحدہ کے تصور کے تحت بنی تھی اپنے بھائیوں پر ہونیوالے مظالم پر بھرپور کردار ادا کرے ۔اگر ہم اپنے بھائیوں کے لیے کچھ نا کرسکے تو روز قیامت اپنے پیارے آقا کو کیا منہ دکھائیں گے ۔

وزیراعظم آزادکشمیر  نے  کہا کہ مودی نے کشمیر سے شروع کیا اب جو کچھ دہلی میں مسلمانوں کے ساتھ ہوا اس سے ہم سب کی آنکھیں کھل جانی چاہیں ۔

وی این ایس،  مظفرآباد

Download Video