لاہور، مارچ 14(اے پی پی): کروناوائرس کے خدشے کے پیش نظر ریلوے میں بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔ ریلوے کے پا س آٹھ ہسپتال اور 36 ڈسپنریاں ہیں ہم صوبائی حکومتوں کو آفر کررہے ہیں کہ وہ ان کو آئسولیشن وارڈ کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔
ان خیالات کااظہار وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے ریلوے ہیڈکوارٹرز آفس لاہور میں گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ ورلڈ بنک سے ان ہسپتالوں کی ری ہبلیٹیشن اور پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ مل کر چلانے کے حوالے سے بات چیت چل رہی ہے ۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ تمام اسٹیشنوں اور ٹرینوں میں صفائی اور سپرے کے حوالے سے ہدایات جاری کردی گئی ہیں جبکہ 27اور 28مارچ کوہونے والی سالانہ سپورٹس بھی منسوخ کی جارہی ہیں ہم اس حوالے سے کوئی افراتفری نہیں پھیلاناچاہ رہے ۔
وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا کہ تین ٹرینیں جناح ایکسپریس ، لاثانی اور فرید ایکسپریس کو پرائیویٹ سیکٹر کو دینے کا فیصلہ کیاہے، اگلے 8سے 10 روزمیں مزید تین فریٹ ٹرینیں پرائیویٹ سیکٹر کو دے دیں گے۔ پرائیویٹ سیکٹر کو 10ٹرینیں دینے کا ہمارا ٹارگٹ ہے ۔ ہمارا یہ فیصلہ ہے کہ سب سے پہلے خسارے میں چلنے والی ٹرینوں کو پرائیویٹ سیکٹر کو دیا جائے اور یہ سارا کام ہم ٹینڈر کے ذریعے بینچ مارک لگاکر کریں گے۔ امید ہے کہ نئے بجٹ سے پہلے پہلے ہم پرائیویٹ سیکٹر سے مل کر اس حوالے سے بہتر سلسلہ بنائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ریلوے میں کوئی ٹرین بند نہیں کی جارہی 134 پسنجراور 12سے 15فریٹ ٹرینیں حسبِ معمول چلیں گی۔
اے پی پی /لاہور/حامد











