وفاقی وزیر احد چیمہ کی زیر صدارت وزارت صنعت و پیداوار کے روڈ میپ کا جائزہ، صنعتی ترقی اور ایس ایم ایز کے فروغ پر زور

0

اسلام آباد ،07 اگست  (اے پی پی ):وفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ نے وزارت صنعت و پیداوار کے روڈ میپ کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں صنعتی ترقی کو تیز کرنے اور پاکستان کی برآمدی استعداد میں اضافے کے لیے بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کے شعبے کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان، سیکرٹری صنعت سیف انجم، چیف ایگزیکٹو آفیسر سمیڈا اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔حکام نے وفاقی وزیر کو وزارت کے سٹریٹجک روڈ میپ، جاریاقدامات اور صنعتی شعبے کی مسابقتی صلاحیت بڑھانے کے لیے مجوزہ پالیسی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں بنیادی توجہ ایس ایم ایز کو سہولت فراہم کرنے پر مرکوز رہی تاکہ وہ برآمدی منڈیوں تک زیادہ موثر انداز میں رسائی حاصل کر سکیں اور قومی معیشت میں اپنا کردار مزید موثر طریقے سے ادا کر سکیں۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزیر احد چیمہ نے اس امر پر زور دیا کہ فرسودہ تحفظاتی معاشی پالیسیوں پر انحصار کرنے کے بجائے جدید معاشی ماڈلز اور پالیسیوں کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایک ملکی ضروریات اور قومیترجیحات سے ہم آہنگ ہوم گرون معاشی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے جس کا مقصد معاشی استحکام کے ساتھ پائیدار ترقی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی منصوبہ بندی میں نظم و ضبط، پالیسیوں کے تسلسل، وسائل کے موثر استعمال اور طویل المدتی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایز اور بڑے صنعتی ادارے بتدریج جدید معاشی ماڈلز اختیار کر رہے ہیں تاکہ اپنی استعداد اور مسابقتی صلاحیت میں اضافہ کر سکیں اور حکومت اس عمل میں موثر ریگولیٹری فریم ورک، مالیاتی سہولیات تک بہتر رسائی اور دیگر ادارہ جاتی معاونت فراہم کرکے ان کی بھرپور سرپرستی کرے گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت صنعتی شعبے کے لیے منافع پر مبنی مراعات کے بجائے لاگت پر مبنی مراعات کو ترجیح دے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت سٹیٹ بینک آف پاکستان اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ایس ایم ایز کی پیداواریاور برآمدی صلاحیت بڑھانے کے لیے مربوط اقدامات جاری رکھے گی۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای زیز) کی توسیع کے بجائے ایس ایم ایز کو لاگت پر مبنی سہولتیں فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار کرنے کی لاگت میںکمی، ریگولیٹری آسانیوں اور ہدفی مراعات کے ذریعے ایس ایم ایز کو ترقی، مسابقت اور برآمدات میں موثر کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ برآمدات پر ٹیکسوں میں کمی کی گئی ہے جبکہ مختلف شعبوں کے لیے مخصوص صنعتی پالیسیاں حتمی مراحل میں ہیں تاکہ صنعتی پیداوار، مسابقتی صلاحیت اور کاروباری ماحول کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ چینی اور دیگر بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان کی ایس ایم ایز اور بڑے صنعتی اداروں کے ساتھ اشتراک میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کا اظہار کر رہی ہیں۔ اس موقع پر وفاقی وزیر احد چیمہ نے کہا کہ حکومت سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) اور دیگر ادارہ جاتی پلیٹ فارمز کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاری کو سہولت فراہم کر رہی ہے اور بین الاقوامی شراکت داری کو مزید فروغ دینےکے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔اجلاس میں صنعتی شعبے کی کارکردگی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے کلیدی کارکردگی اشاریوں کی تیاری کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ایس ایم ایز کی استعداد کار میں اضافہ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار میں بہتری اور پائیدار معاشی ترقی کے حصول کا ایک موثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بڑے صنعتی اداروں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ایس ایم ایز، دونوں کی بھرپور معاونت جاری رکھے گی۔وفاقی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والی ایس ایم ایز کا جامع سروے کیا جائے اور انہیں رسمی معیشت کا حصہ بننے کی ترغیب دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ غیر دستاویزی کاروباری اداروں کو دستاویزی معیشت میں شامل کرنے سے کاروباری اداروں اور حکومت دونوں کو طویل المدتی فوائد حاصل ہوں گے جن میں مالیاتی سہولیات، حکومتی مراعات اور ادارہ جاتی معاونت تک بہتر رسائی شامل ہے۔ وفاقی وزیر احد چیمہ نے کہا کہ حکومت جلد ہی ایس ایم ایز کے لیے مزید ریگولیٹری اصلاحات اور اضافی لاگت پر مبنی مراعات متعارف کرائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سہولتیں رسمی رجسٹریشنسے مشروط ہوں گی تاکہ کاروباری ادارے حکومتی معاونت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک مضبوط، زیادہ مسابقتی اور برآمدات پر مبنی صنعتی شعبے کی تشکیل میں اپنا موثر کردار ادا کر سکیں۔