چترال،06اپریل(اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی چترال کے صدر بشیر احمد نے انتظامیہ پر زوردیا ہے کہ وہ کرونا وائرس کے پیش نظر بنائے گئے قرنطینہ مراکز کو شہر سے باہر منتقل کرے تاکہ اس موذی مرض کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ٹاؤن 2 میں محتلف ہاسٹلوں، ہوٹلوں اور سرکاری عمارتوں میں قرنطینہ مراکز قائم کئے گئے ہیں جبکہ اکثر اوقات ان قرنطینہ مراکز میں رہنے والے لوگ رات کی تاریکی میں چھتوں پر دکھائی دیتے ہیں جو تشویش ناک ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ چترال اللہ کے فضل سے ابھی تک کرونا سے پاک ہے مگر خطرہ اس بات کا ہے کہ باہر سے آنے والا کوئی مریض اس وباء کو اپنے ساتھ نہ لے آئے۔
انہوں نے کہا کہ دوسرے صوبوں میں حکام نے شہر سے باہر ان لوگوں کیلئے قرنطینہ مراکز قائم کئے ہیں جو حفظان صحت کے اصولوں کے عین مطابق ہیں۔
بشیر احمد نے مزید بتایا کہ چترال میں بھی آبادی سے باہر سین لشٹ، سین، دولوموچ میں ایسے ہوٹل، سکول،تعلیمی ادارے اورسرکاری عمارتیں موجود ہیں جن کو قرنطینہ کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔
واضح رہے کہ چترال میں قرنطینہ مراکز کامرس کالج، اس کے ہاسٹل، سکول اور ایک سرکاری ہوٹل بشمول کئی نجی ہوٹلوں میں قائم ہیں۔
اے پی پی / گل حماد فاروقی/نورین











