پشاور،26 جون(اے پی پی): انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے کہا ہے کہ پولیس عوام کی جان و مال اور عزت و آبرو کے محافظ ہیں اور پولیس حکام کو ہدایت کی کہ وہ عوام کیساتھ عزت و احترام کے ساتھ پیش آکر اُن کا بے لوث تعاون حاصل کریں۔
یہ ہدایات انہوں نے آج سنٹرل پولیس آفس پشاور میں صوبہ بھر کے ریجنل پولیس آفسروں اور سی پی او میں تعینات سنیئر پولیس افسران کے ساتھ ویڈیولنک کانفرنس کے دوران جاری کیں۔ پولیس سربراہ نے کہا کہ خیبر پختونخوا اچھی روایات کا سچا امین صوبہ ہے اور یہاں کی زرین اقدار اور روایات کو ملحوظ رکھ کر عوام کی اُمنگوں کے عین مطابق اچھی اور پیشہ ورانہ پولیسنگ کو فروغ دیا جائے۔پولیس سربراہ نے کہا کہ دنیا بھر میں پولیسنگ کا بہترین نظام عوام کے تعاون پر مبنی پولیسنگ کو تصور کیا جاتا ہے۔
خیبر پختونخوا پولیس نے بھی ہمیشہ عوام کیساتھ مل کر پولیسنگ کی ہے اور ہمیشہ ان کے تعاون سے تخریب کاروں اور شرپسند عناصر کو شکست دی ہے اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف پولیس کے بڑے بڑے کارناموں کے پیچھے عوام کے تعاون کا بڑا عمل دخل رہا ہے۔ آئی جی پی نے کہا کہ حالیہ دہشت گردی کی جنگ میں بھی عوام نے پولیس کے ساتھ مل کر برابر بے مثال قربانیاں دی ہیں اور ریجنل پولیس افسروں کو ہدایت کی کہ وہ ایک مہذب اور پُر امن معاشرے کے قیام کے لیے عوامی پولیسنگ کو فروغ دیں۔ انہیں یہ بھی ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے ماتحتان کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں انہیں ڈیوٹی پر بھجوانے سے پہلے عوام کے ساتھ اچھا رویہ اپنانے اور کسی بھی صورت میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنے اور اپنے فرائض قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سرانجام دینے کی بھی تلقین کریں۔
آئی جی پی نے دہشت گردی اور امن و آمان کی بحالی میں خیبر پختونخوا پولیس کی بیش بہا قربانیوں کو بے حد سراہا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ ملک و قوم کی حفاظت کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔
سنیئر پولیس افسروں نے اس بات کا عہد کیا کہ Human Rights کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔تشدد کو برداشت نہیں کیا جائےگا چاہے وہ کوئی بھی کرے۔ ہر چیز قانون کے دائرے میں کی جائے گی اور انصاف لوگوں کو نظر آئیگا اور انصاف کے تقاضے پوری کئے جائیں گے۔
پولیس افسروں نے اس بات کا بھی عہد کیا کہ پولیس ایکٹ میں نئے تقاضوں کے مطابق پبلک کمپلینٹ اتھارٹی اور پبلک سیفٹی کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ آئی جی پی نے کہا کہ پشاور تہکال کے واقعے میں شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے۔ اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ملوث افراد کو قرار واقعی سزادی جائے گی اور یقین دلایا کہ عوام کو انصاف ہوتا ہوا نظر آئے گا۔
ریجنل پولیس افسروں کو مزید ہدایت کی گئی کہ وہ صوبے میں تعینات تمام ایس ایچ اوز کے ریکارڈ چیک کریں۔ بُری شہرت کے حامل ایس ایچ اوز کی جگہ تعلیم یافتہ اور عوام دوست ایس ایچ اوز کو تعینات کریں۔ پولیس حکام کو فورس کا مورال بلند رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات اُٹھانے کی بھی ہدایت کی گئی۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ کسی بھی ادارے کو کمزور کرنا ریاست کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
وی این ایس، پشاور











