اسلام آباد ۔ 5 جون (اے پی پی):نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے جمعہ کو وزارت اطلاعات و نشریات اور آئی ایس پی آر کی جانب سے بنائی گئی ”میڈیا کمپین“ کا بغور جائزہ لیا۔ فورم نے صوبوں کو ہدایات دیں کہ کورونا وائرس کے عدم پھیلاﺅ کے لئے تیار کی گئی ایس او پیز اور گائیڈ لائنز پر مو ¿ثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی‘ ترقی‘ اصلاحات و خصوصی اقدامات اسد عمر نے کہا کہ ہر سطح پرایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے‘ وزارت اطلاعات و نشریات اور آئی ایس پی آر کی میڈیا کمپین کا مرکز بھی ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد ہونا چاہئے، فورم نے تجویز دی کہ چیف سیکرٹری اس موقع پر فائدہ اٹھاتے ہوئے تاجر ایسو سی ایشنز سے بھی رجوع کرے تاکہ ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد ہوسکے ۔ وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ حکومت اس وباءسے نمٹنے کے لئے ہر ممکن اقدام اٹھا رہی ہے ۔ ڈاکٹر فیصل سلطان کی سربراہی میں خصوصی ٹیم بھیج کر صحت کی سہولیات پر صوبوں کو معیاری بنانے اور معاونت کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں فورم کو آگاہ کیا گیا اور ایف ایل ایچ سی این کے لئے ہیلپ لائن کے قیام پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں عوام میں ایس او پیز پر عمل درآمد کے لئے سختی جاری رکھنا ہوگی اور حقائق بھی عوام کے سامنے لانے ہونگے ۔ یہ تجویز پیش کی گئی کہ صوبائی چیف سکرٹریز میڈیا سے رابطہ کرنے والے تاجرتنظمیموں سے بات کریں اور انھیں ایس او پیز پر عمل درآمد کی جانب راغب کریں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت ایک ہی وقت میں بیماریوں کے پھیلاؤ پر قابو پانے اور صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو اپ گریڈ کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔ آئی ایس پی آر کے حکام نے فورم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ہر سطح پر مکمل معلومات کا تبادلہ کیا گیا ہے جبکہ ایس او پیز پر عملدرآمد کےلئے بھی مختلف مہمات چلائی گئی ہیں۔ فورم نے صوبوں سے اعداد و شمار کی فوری شیئرنگ‘ خیبر پختونخوا اور اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات اور چیئرمن سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ ایس او پیز کے نفاذ میں توازن پیدا کرنے اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانے سے بچنے کی ضرورت ہے‘ عوام کی شمولیت سے ہی ایس او پیز پر عمل درآمد اور اس وباءکو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ پر صوبوں کی جانب سے کامیاب کوششوں کو اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی میڈیا پر تمام صوبوں کو اس حوالے سے بہتر کوریج دی جارہی ہے۔ صوبائی چیف سیکرٹریوں بشمول گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر نے فورم کو ایس او پیز پر عملدرآمد اور لاگو لاک ڈاﺅن کے حوالے سے فورم کو آگاہ کیا ۔ فورم کو بتایا گیا کہ بلوچستان حکومت نے ایس او پیز پر عمل درآمد نہ کرنے پر 3800 دکانیں بند کیں۔ خاص طور پر میڈیا کے ذریعہ موثر آگاہی مہم کو یقینی بنایا گیا ہے اور کیبل پر پیغام رسانی کی گئی ہے ۔ پنجاب حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ پنجاب بھر میں مختلف مارکیٹوں، بازاروں/ٹرانسپورٹ اور صنعتی علاقوں کی مانیٹرنگ کے لئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر لاہور‘ فیصل آباد‘ راولپنڈی‘ گجرات‘ ملتان میں 100 سے زیادہ مارکیٹیں/صنعتیں بند کرادیں گئیں۔ ماسک کے بغیر آنے والے شہریوں کو ٹریفک پولیس کے ذریعے آگاہی فراہم کی جا رہی ہے۔ شہری انتظامیہ کی مدد کرنے اور صحت کے رہنما خطوط اور ہدایات پر عمل کرنے کےلئے ایک طریقہ کار بنانے کےلئے تاجر تنظیموں/چیمبرز کی معاونت حاصل کی جا رہی ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ موثر میڈیا مہم نے عوامی شعور اور ایس او پیز پر عملدرآمد اور جانچنے کے طریقہ کار میں مدد کی ہے۔ کے پی کے حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ بغیر ماسک کوئی خدمات نہیں بیداری مہم کے پی کے میں تیزی سے جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے دفاتر اور بازاروں سمیت ہر جگہ ماسک کو لازمی قرار دیدیا ہے اور متعدد آبادیوں میں مفت ماسک تقسیم کئے ہیں‘ ہم اجتماعی چیکنگ کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ گلگت بلتستان حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ بغیر ماسک کوئی خدمات نہیں مہم کامیابی سے چل رہی ہے‘ کورونا عدم پھیلاﺅ کےلئے بنائی گئی ایس او پیز اور گائیڈ لائینز کی خلاف ورزی پر 440 دکانیں اور 8 علاقے سربمہر کر دیئے ہیں۔ فورم کو بتایا گیا کہ وزارت صحت اور این آئی ٹی بی (این سی او سی) کی مدد سے ایک خصوصی ایپلی کیشن لانچ کی جارہی ہے جو ہیلتھ ورکرز کے مسائل کی اطلاع دینے کا ذریعہ بنے گی۔ فورم کو بتایا گیا کہ کے پی کے میں 24ہزار 266مقامات کی انسپکشن کی گئی او 6ہزار 728وارننگ نوٹسز جاری کیے گئے ‘23ہزار 604دکانوں، 35 مارکیٹس، 8اڈوں ‘305گاڑیوں کو ایس او پیز کی خلاف ورزی پر جرمانے کیے گئے ۔ فورم کو بتایا گیا کہ آزاد کشمیر میں ایس او پیز کی 161خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئیں ‘26مارکیٹیں اور 130گاڑیاں بند کی گئیں ۔ بلوچستان میں ایس او پیز کی 776خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئیں جس پر 699دوکانیں 82صنعتیں 82پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیاں بند کی گئیں ۔ گلگت بلتستان میں ایس او پیز کی 1657 خلاف ورزیاں ہوئیں جس پر 440دکانیں ‘ 13صنعتیں اور 297پبلک ٹرانسپورٹ کی گاڑیاں بند کی گئیں ۔ پنجاب میں 1625خلاف ورزیوں پر 158مارکیٹں ‘11صنعتیں، 232گاڑیاں بند کی گئیں ۔ اسلام آباد میں ایس او پیز کی 800خلاف ورزیاں ہوئیں ‘ 83مارکیٹیں ‘ 22صنعتیں‘ 42پبلک ٹرانسپورٹ کی گاڑیاں بند کی گئیں۔ ملک بھر کے مختلف حصوں میں ٹی ٹی کیو حکمت عملی کے تحت سمارٹ لاک ڈاﺅن کا عمل بھی جاری ہے جس کے مطابق اس وقت پنجاب میں 1لاکھ 60ہزار آبادی پر 617سمارٹ لاک ڈاﺅن‘ کے پی کے میں 9ہزار 800کی آبادی پر 251سمارٹ لاک ڈاﺅن ‘ آزاد کشمیر میں 1800کی آبادی پر 7سمارٹ لاک ڈاﺅن اور اسلام آباد میں 10ہزار کی آبادی پر 9سمارٹ لاک ڈاﺅن چل رہے ہیں۔
وی این ایس، اسلام آباد











