اسلام آباد ۔ 3 جون (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات اسد عمر نے کہا ہے کہ ایس او پیز عملدرآمد پر کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی، سخت انتظامی اقدامات ملک کے طول و عرض میں شروع کئے جا رہے ہیں جس کا مقصد حفاظتی تدابیر کی خلاف ورزی پر سخت سرزنش کرنا ہے تاکہ مارکیٹس، ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبوں میں کورونا کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے کیونکہ ان علاقوں میں کورونا کے پھیلاؤ کا خدشہ سب سے زیادہ ہے، تمام صوبوں میں عوام کو یہ واضح پیغام پہنچایا جائے کہ حکومت سماجی فاصلوں اور حفاظتی تدابیر کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف انتظامی کارروائی شروع کرنے جا رہی ہے۔ بدھ کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنل سینٹر (این سی او سی) میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ قومی رابطہ کمیٹی میٹنگ کے منٹس میں اس بات کی تصحیح کی گئی کہ رضاکارانہ طور پر حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس ضمن میں این سی سی کی تمام صوبوں کو بھرپور حمایت حاصل ہے، تاجروں کو ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرنا ہو گا اور عملدرآمد نہ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ میڈیا پر بھی موثر کمپین شروع کرنے جا رہے ہیں تاکہ عوام تک موؤثر پیغام جائے اور وہ اس بیماری کے خلاف اپنا اپنا کردار بہتر طریقے سے نبھا سکیں۔ وفاقی وزیر اسد عمر نے چیف سیکرٹریز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ٹریڈ یونینز کا مطالبہ تھا کہ کاروبار کھولے جائیں اور جب کاروبار کھول دیئے گئے تو اب ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا جا رہا جو کہ وائرس کے پھیلاؤکا سبب بن رہا ہے اور اب ان ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر اسد عمر نے مزید کہا کہ مارکیٹس، ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبہ پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں اور ایس او پیز پر عملدرآمد کےلئے سختی سے کام لینا پڑا تو اس سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ میڈیا کمپین بھی شروع کی جا رہی ہے تاکہ عوام کو اس بیماری سے احتیاطی تدابیر کے حوالے سے آگاہ کیا جائے گا تاکہ ان میں اس بیماری سے متعلق آگاہی پیدا ہو سکے اور وہ اس معاشرے کے فرد ہونے کی حیثیت سے اپنا کردار بھرپور طریقے سے سر انجام دے سکیں۔ بلوچستان کے چیف سیکرٹری نے اجلاس کے دوران بتایا کہ جب سے دکانیں اور مارکیٹس کھولی گئی ہیں اس وائرس کا پھیلاؤ زیادہ ہوا ہے تاہم دکانوں کیلئے جو ایس او پیز مرتب کئے گئے ہیں ان پر سختی سے سے عملدرآمد کیا جا رہا ہے اور متعدد دکانداروں کو ان ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنے پر جرمانے بھی عائد کئے گئے ہیں تاہم ٹرانسپورٹ کے حوالہ سے ایس او پیز بنائے جا رہے ہیں اسکے بعد ٹرانسپورٹ کو کھولا جائے گا۔ چیف سیکرٹری پنجاب نے اجلاس میں بتایا کہ جب لاک ڈاﺅن میں نرمی کی تو لوگوں کا مارکیٹس میں رش تھا لیکن یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ عوام کی جان کی حفاظت کی جائے اور ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ چیف سیکرٹری سندھ نے بتایا کہ لاءانفورسمنٹ ایجینسیز کے ذریعے ایس او پیز پر عملدرآمد کرایا جا رہا ہے اور ان پر عمل نہ کرنے والوں کو بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے بتایا کہ صوبے میں سب سے بہتر عملدرآمد صنعتی سیکٹر میں دیکھنے میں آئی ہے تاہم ٹرانسپورٹرز کے ساتھ مزاکرات میں ان کو ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کا کہا گیا ہے۔ چیف سیکرٹریز گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر نے اجلاس میں بتایا کہ اپنے صوبوں میں ایس او پیز پر عمل کرایا جا رہا ہے۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے خوراک سیّد فخر امام، وفاقی وزی داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ، معاون خصوصی برائے صحت ظفر مرزا، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل نے بھی شرکت کی۔
وی این ایس، اسلام آباد











