پشاور، 28جولائی(اے پی پی): وزیراعلی کے مشیر اطلاعات کامران بنگش نے کہا ہے کہ پختونخوا اسمبلی نے چھاتی سرطان بارے اسمبلی سے قرارداد پاس کی ہے۔ اس قرارداد کی روشنی میں پختونخوا ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے دو کمیٹیوں کو نامزد کردیا ہے جو صوبے میں اپنی نوعیت کے پہلے سرطان کنٹرول پروگرام کیلئے لائحہ عمل طے کرینگی۔
کامران بنگش پبلک ہیلتھ ایسوسی ایشن ، کے پی اسمبلی اور حکومت خیبرپختونخوا کی جانب سے چھاتی سرطان بارے آگاہی کیلئے منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔
۔ انہوں نے کہا کہ نشتر آباد میں بننے والا ہسپتال اصل میں انسٹیٹیوٹ آف ہیپٹالوجی اور بریسٹ کینسر ہے
اور خواتین میں اسکریننگ اور عوام میں آگاہی کیلئے ہم اس پروگرام کو مکمل سپورٹ کرینگے۔ ہماری حکومت کی پوری حمایت پبلک ہیلتھ ایسوسی ایشن کے ساتھ ہیں اور اسکے لئے میڈیا کے تمام نمائندگان کا مشکور ہونگا کہ اس پروگرام کو سپورٹ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج ہمارے میڈیا کے دوست عارف یوسفزئی کے گھر ناقابل تلافی سانحہ پیش آیا۔ اللہ تعالی عارف یوسفزئی اور ان کی خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور تمام انسانیت کو ایسے سانحے کے وقوعہ سے بچائے۔
اس موقع پر ڈاکٹر صائمہ، صدر پبلک ہیلتھ ایسوسی ایشن نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چھاتی کا سرطان خواتین میں اموات واقع ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ پاکستان میں اس وقت دس ملین خواتین کو چھاتی کے سرطان کا خطرہ ہے۔ ہرسال چالیس ہزار خواتین اس کینسر سے موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں جبکہ کے پی میں ہر سال پندرہ ہزار خواتین میں چھاتی سرطان کی تشخیص ہوتی ہے۔
ڈاکٹر صائمہ نے کہا کہ اس کینسر کے فرسٹ اور سیکنڈ سٹیج سے ریکوری ممکن ہے اور یہ صرف خواتین نہیں بلکہ مردوں میں بھی تشخیص ہوسکتا ہے، اب تک ایک فیصد مردوں میں بھی اس کی تشخیص ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چھاتی کے سرطان بارے اسمبلی قرارداد لائق تحسین ہے کیونکہ کینسر رجسٹری سرکاری سطح پر نہیں ہے، جو اب اس قرارداد کے تحت بنے گی مگر بڑے پیمانے پر آگاہی کمپین چلانے کی اشد ضرورت ہے۔ کے پی میں پاکستان کا پہلا بریسٹ کنٹرول پروگرام لانچ ہونے جارہا ہے۔ خواتین اس سرطان کو شئیر کرنے میں جھجک محسوس کرتی ہیں۔
ایم پی اے عائشہ بانو نے کہا کہ قراداد کیمطابق بچوں کو اپنا دودھ پلانے سے اس کینسر سے کافی حد تک بچا جاسکتا ہے۔ پبلک ہیلتھ ایسوسی ایشن نے اسمبلی کے مردوخواتین ممبران کو چھاتی کینسر بارے ترغیب دی جو تمام ممبران نے بغیر کسی اعتراض کے اس قرارداد کی منظوری دی۔ عائشہ بانو کا کہنا تھاکہ اس قرارداد کے تحت صوبے میں بریسٹ کینسر کنٹرول پروگرام ترتیب دیا جارہا ہے۔ صوبے کے ہسپتالوں میں بریسٹ کینسر کی تشخیص اور علاج کیلئے ٹیکنیکل کمیٹی پلان ترتیب دے گی۔
انہوں نے کہا کہ بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی اور ابتدائی سٹیج پر اس کی تشخیص یقینی بنائی جائیگی اور ضلعی ہسپتالوں میں بھی بریسٹ کینسر سے متعلق اقدامات اٹھائے جائینگے۔ سات جولائی کو قرارداد پاس ہوچکی ہے، بیس دن کے اندر اندر دونوں کمیٹیوں کی نامینیشن بھی ہوچکی ہے۔
وی این ایس پشاور











