غربت کے خلاف جہاد ہمیشہ سے وزیراعظم عمران خان کی ترجیحات میں شامل رہا ہے: ،ڈاکٹر ثانیہ نشتر

106

اسلام آباد،18 اگست (اے پی پی): وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ وتخف غربت پروگرام ڈاکٹر ثانیہ  نشتر نے کہاہے کہ غربت کے خلاف جہاد ہمیشہ سے وزیراعظم عمران خان کی ترجیحات میں شامل رہا ہے،27 مارچ 2019ءکومملکت پاکستان کو ریاست مدینہ کے اصولوں پر عمل پیرا ہوکر ایک فلاحی ریاست بنانے کا عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے احساس پروگرام کی بنیاد رکھی، کووڈ 19کے باعث لاک ڈاؤن کے دوران معاشی طور پر متاثر طبقے کو ریلیف دینے کے لئے حکومت پاکستان نے لا ک ڈاؤن کے پہلے دس روز کے اندر 16.9 ملین مستحق خاندانوں کو ایک بار کی مالی معاونت  پہنچانے  کے لئے 203 بلین روپے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے لئے مختص کیے گئے۔

 انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کو یہاں حکومت کی دو سالہ کارکردگی کے بارے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈویژن احساس پروگرام پر عمل درآمد کے لئے تشکیل دیا گیاہے، احساس اپنی نوعیت کا واحد اور منفرد پروگرام ہے،جو پاکستان کے پسماندہ طبقے کی بہتر ی کےلئے شروع کیا گیا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ احساس کی منفرد خصوصیت اس کی وسعت ،پالیسی فارمیشن، بہترین سٹریٹیجی،گورننس ، مانیٹرنگ فریم ورک اور بجٹ ہے جو قومی سطح کے فلاحی منصوبوں پر عمل درآمد کے لئے مہیا کیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ احساس پاکستان میں اپنی طرز کا منفرد پروگرام ہے جو ملک کے لاکھوں غریبوں کو غربت کے ختم نہ ہونے والے چکر سے نکال کر ملک کو فلاحی ریاست بنانے کی طرف ایک قدم ہے ۔

 انہوں نے کہاکہ پچھلے 15ماہ میں احساس کو بین الاقوامی سطح پر بھی پذیرائی حاصل ہوئی ہے، احساس کی کامیابی کا بنیادی محرک تمام سماجی تحفظ کے منصوبوں میں نئی ٹیکنالوجی پر قائم انفراسٹرکچر کا استعمال ہے۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ احساس پروگرام کے ذریعے ملک میں پہلی مرتبہ حکومتی سماجی تحفظ کے اداروں کے مابین کوآرڈینیشن اور تعاون کی بیناد رکھی گئی،احساس حکمت عملی 140 سے زائد پروگراموں، پالیسزاور اقدامات پر مشتمل ہے،یہ پاکستان کا سماجی تحفظ کا سب سے بڑا پروگرام ہے جو غریبوں، یتیموں، بیواوں، بے گھروں، معذوروں، بے روزگاروں، غریب کسانوں، بیماروں، ضرورت مند طالب علموں، غریب عورتوں اور بوڑھے شہریوں کی بہتری کے لئے کام کر رہا ہے۔

 انہوں نے کہاکہ پچھلے 15 ماہ میں ملک کے پسماندہ طبقات کی فلاح کے لئے کئی اہم اقدامات کئے گئے ہیں جو معاشرے کے کمزور طبقوں کی فلاح وبہبود کےلئے خاص طور پر ترتیب دیئے گئے ہیں۔

 انہوں نے کہاکہ احساس کفالت غیر مشروط مالی معاونت کا پروگرام ہے جس کے ذریعے70 لاکھ انتہائی غریب خاندانوں (سو فیصد  خواتین) کو2ہزار  روپے ماہانہ امداد اور بچت بینک اکاؤنٹ کی سہولت دی جاتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ احساس بلا سود قرضے 42.65 ارب مالیت کے اس پروگرام کے ذریعے چھوٹی سطح کے کاروبار کے لئے ملک کے سوپسماندہ اضلاع میں ضرورت مند افراد کو80 ہزار  روپے کے بلا سود قرضے دیئے جا رہے ہیں۔ گزشتہ ایک سال میں 29 ارب روپے مالیت کے 8 لاکھ 44 ہزار قرضے دیئے جا چکے ہیں جس میں سے 45 فیصد قرضے خواتین کو جاری کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ احساس آمدن پروگرام کے ذریعے ملک کے 23 پسماندہ اضلاع میں ڈیڑھ ارب روپے کے چھوٹے کاروباری اثاثوں کی منتقلی کا پروگرام جاری ہے اور اب تک 27ہزار  اثاثے تقسیم کئے جاچکے ہیں جن سے مستفید ہونے والوں میں 60 فیصد خواتین شامل ہیں۔

انہوں نے کہاکہ مزدور کے احساس کے تحت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے سیلانی ویلفیر ٹرسٹ کے تعاون سے احساس لنگرپروگرام کا اجراءکیا گیا ہے جس کے تحت ہر لنگر خانہ پر روزانہ چھ سو  سے زیادہ دیہاڑی دار مزدور دو وقت کا کھانا کھاتے ہیں۔ اب تک ملک بھر میں 12 لنگرخانے قائم ہوچکے ہیں اور مزید پر کام تیزی سے جاری ہے۔

انہوں نے کہاکہ احساس انڈرگریجویٹ سکالرشپ پروگرام ضرورت مند طالب علموں کے لئے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا انڈر گریجویٹ سکالرشپ پروگرام ہے،اس چار سالہ پروگرام میں 20 ارب روپے مالیت کے دو لاکھ سکالرشپ دیئے جائیں گے، گزشتہ سال 4.9 ارب روپے کے سکالرشپ پاکستان کی 117 یونیورسٹیوں کےپچاس ہزار پانچ سو  طلباءکو دیئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ حال ہی میں شروع کیا گیاساڑھے آٹھ ارب روپے مالیت کا احساس نشوونما پروگرام ماوں اور بچوں کے لئے صحت و غذا سے متعلق مالی معاونت کا پروگرام ہے جو دو سال سے کم عمر بچوں میں اسٹنٹنگ کے مرض کے تدارک کے لئے شروع کیا گیا ہے۔پہلے مرحلے میں نو  اضلاع میں 33 نشوونما مراکز قائم کئے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ احساس فریم ورک کے تحت معذوروں سے متعلق ایک نئی پالیسی جون 2019 ءمیں جاری کی گئی تھی اور اس پر مزید پیش رفت تیزی سے جاری ہے۔