اسلام آباد ، 2 ستمبر (اے پی پی): سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کو بتایا گیا ہے کہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو اشتہارات کی مد میں مارچ 2020ءمیں ایک ارب روپے سے زائد کے واجبات کی ادائیگی کی گئی ہے۔ کمیٹی کا اجلاس بدھ کو چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید کی صدارت میں ہوا۔ سیکرٹری اطلاعات و نشریات اکبر درانی نے کمیٹی کو میڈیا کو واجب الادا رقوم کی ادائیگی کے بارے میں آگاہ کیا۔
پرنسپل انفارمیشن آفیسر شاہیرہ شاہد نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت میڈیا کے اداروں کو اشتہارات کی رقوم کی ادائیگی، صحافیوں کو تنخواہوں کی ادائیگی سے منسلک کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وباءکے دوران سٹیٹ بینک نے میڈیا کے اداروں کو قرضہ کی سہولت فراہم کی اور میڈیا کے بڑے اداروں نے اپنے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے سہولت سے فائدہ اٹھایا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے میڈیا سے صحافیوں کو ملازمتوں سے نکالنے اور ان کو تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایات پر تمام سرکاری اداروں سے اشتہارات کی مد میں واجب الادا رقوم کا معاملہ اٹھایا گیا ہے جس کے نتیجہ میں میڈیا کے اداروں کو ادائیگی کے عمل میں تیزی آئی ہے۔ کمیٹی کو وزارت اطلاعات کے ڈیجیٹل میڈیا ونگ کے سٹرکچر اور کام کے متعلق بھی بریفنگ دی گئی۔
سینیٹر مصدق ملک کے استفسار پرایم ڈی پی ٹی وی نے بتایا کہ پی ٹی وی انتظامیہ نے غلط نقشہ دکھانے پر دو پروڈیوسروں کو معطل کیا ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی ان کی معطلی کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ کمیٹی اراکین نے انکوائری رپورٹ کی بنیاد پر ملازمین کے خلاف امتیازی کارروائی پر ناخوشگواری کا اظہار کیا اور کہا کہ آئندہ اجلاس میں اس حوالے سے بھی کمیٹی کو آگاہ کیا جائے۔
کمیٹی کو شالیمار ٹیلی ویژن نیٹ ورک، ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیا اینڈ پبلیکیشنز کے سٹرکچر اور پروگرامنگ سے متعلق بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ایس ٹی این زراعت اور بچوں سے متعلق دو نئے چینل شروع کر رہا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارت اطلاعات و نشریات کے ملازمین کو زیر التواءاعزازیہ وزارت خزانہ سے ملنے والے فنڈز کے بعد ادا کر دیئے جائیں گے۔ کمیٹی اراکین نے وزارت اطلاعات و نشریات کے حکام پر زور دیا کہ وہ ملازمین کو جلد از جلد اعزازیہ ادا کریں۔











