اسلام آباد ، 2 ستمبر (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام نے کہا ہے کہ پاکستان اور قطر مشترکہ طور پر زراعت سے متعلق تحقیقی ادارہ تشکیل دے سکتے ہیں، جس کی ایک شاخ دوحہ اور دوسری اسلام آباد میں ہو۔
ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام نے بدھ کو قطر کے سفیر شیخ سعود بن عبدالرحمن سے ملاقات کے دوران کیا۔ انہوں نے زراعت سے متعلق دونوں ممالک کے مابین ایم او یو کی تجویز بھی پیش کی۔سید فخر امام کا موقف تھا کہ پاکستان چاول ، کپاس ، مچھلی ، پھل (خاص طور پر سنترے اور آم) برآمد اور سبزیاں اور سبزیوں کا تیل، گندم، دالیں اور صارفین کی اشیا درآمد کرتا ہے۔ گزشتہ دو سالوں میں پاکستان نے انڈے، شہد، بسکٹ، رسک، ٹھنڈا / منجمد گوشت اور گائے کا گوشت اور چکن کا گوشت قطر کو برآمد کیا۔ پاکستان بنیادی طور پر چاول، آم، آلو، نرسری کے پودے، چاول، روڈس، سویا بین کھانے کے علاوہ دیگر زرعی سامان قطر کو برآمد کرتا ہے۔ قطر فائٹو سینٹری سرٹیفکیٹ پر تمام پاکستانی زرعی سامان درآمد کرتا ہے۔قطر زرعی مصنوعات کی ایک بڑی منڈی ہے کیونکہ اس کی تمام زرعی مصنوعات دوسرے ممالک سے درآمد ہوتی ہے۔پاکستان طویل عرصے سے قطر میں بیماری سے پاک گوشت اور گوشت کی مصنوعات برآمد کررہا ہے۔مزید برآں ہمارے تجارتی شراکت داروں کو گوشت کی محفوظ برآمد کو یقینی بنانے کے لئے حالیہ ماضی میں کچھ اقدامات کیے گئے ہیں۔قطر کے ویٹرنری اتھارٹی کی جانب سے تائید شدہ پاکستان کے رجسٹرڈ سلاٹر ہاؤسز سے حلال گوشت اور گوشت کی مصنوعات قطر برآمد کی جارہی ہیں۔مستقبل قریب میں محفوظ تجارت کو یقینی بنانے کے لئے چینی حکومت کی تکنیکی مدد سے ایف ایم ڈی فری زون قائم کیے جارہے ہیں۔











