راولپنڈی، 09 اکتوبر (اے پی پی): بھارتی دہشت گردی کے نئے چہرے کو امریکی جریدے فارن پالیسی نے بے نقاب کر دیا ہے، جریدے نے داعش اور بھارتی روابط دُنیا کے سامنے رکھ دیے ہیں۔ جریدے نے کہا کہ داعش اور بھارتی گٹھ جوڑ عالمی اور علاقائی امن کیلئے خطرہ ہیں۔
ہندوستانی دہشت گردی کی کہانی تاریخی طور پر دنیا کی نظروں سے اوجھل رہی ہے لیکن ہندوستان کی انتہاپسند پالیسی ایک تباہ کن خطرہ ہے،عالمی دہشت گردی میں بھارت سرفہرست ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر اقوام عالم نے اس کا نوٹس نہ لیا تو اس کے دور رس اثرات ہونگے۔
امریکی جریدے کے مطابق بھارت کی دہشت گردی میں ملوث ہونا کوئی نئی بات نہیں،بھارت دراصل طالبان کے نظریات کو فروغ دینے میں ایک جڑ اور بُنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔
بھارت کے مختلف دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کا ذکر کرتے ہوئے جریدے نے لکھا کہ مختلف ممالک اور علاقوں میں دہشت گردی کے حملوں اور نئی لہر میں بھارتی سر پرستی ایک نیا موڑ لے رہی ہے۔ داعش اور بھارتی گٹھ جوڑ کے حالیہ دہشت گردکارروائیوں، خاص کر2019میں سری لنکا میں ایسٹر کے موقع پر بم دھماکے،2017میں نئے سال کے موقع پر ترکی میں کلب پر حملہ ،کابل میں سکھ گردوارہ پر حملہ اور 2017میں نیو یارک اورسٹاک ہوم حملے نے دُنیا کو ششدر کر دیا ہے جبکہ داعش کیجانب سے اگست کے مہینہ میں افغانستان کے علاقے جلال آباد میں جیل پر حملے نے اس اُبھرتے خطرے کو بڑھاوا دیاہے، ان حملوں کی پلاننگ میں بھارتی ہاتھ انتہائی پریشان کُن ہیں۔
ہندوستان کے بھارت، پاکستان اور افغانستان میں موجود نیٹ ورکس سے روابط، سرپرستی اور ملوث ہونے کے واضح ثبوت ہیں۔اس سے پہلے ہندوستان صرف خطے میں ہی دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہا ہےلیکن اب یہ تبدیل ہورہا ہے اور داعش کے ذریعے مذہبی گروپس خاص کر نوجوانوں کو استعمال کر کے دوسرے ممالک اور بین الاقوامی مذہبی تحریکوں کے ذریعے انتہا پسندی اور دہشت گرد نظریات کو فروغ دے رہا ہے۔
شام کی لڑائی میں بھارتی دہشت گردوں کے ملوث ہونے، افغانستان میں داعش کے ساتھ مل کر لڑنے کے واضح ثبوت ہیں۔
داعش اور بھارتی گٹھ جوڑ کے نتیجے میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں واضح اضافہ ہوا ہے،چاہے وہ2016 میں اتاترک ائیرپورٹ پر حملہ ہو،یا زیر زمین پیٹرز برگ پر حملہ۔
بھارتی دہشت گردوں نے خاص کر افغانستان اور شام کو بیس بنا کر دہشت گردانہ کارروائیوں میں حصہ لیا۔
داعش نے بھارت میں موجود اپنے دہشت گرد گروپس کا باضابطہ اعلان بھی کیا تھا، داعش کا یہی گروپ کشمیر میں بھی ملوث ہے جبکہ اقوام متحدہ بھی کیرالہ اور کرناٹکا میں دہشت گرد گروپس کی موجودگی کا انکشاف کر چکا ہے اور بھارتی گٹھ جوڑ دہشت گرد گروپ داعش نے کشمیر میں مرنے والے اپنے 3ساتھیوں کا ذکر اپنے جریدے ال بنا میں بھی کیا ہے۔ ایک ہندو کے11/9 واقع کے خالد شیخ محمد سے روابط کا بھی انکشاف ہوچکا ہے۔
بھارت میں مُودی نے ہندو نیشنلزم کو فروغ دیا ہے، ہندو نیشنلزم انتہا پسندی کو فروغ دے رہا ہے اور اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ زیادہ ہندوستانی علاقائی اور عالمی دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہیں۔











