اسلام آباد،13اکتوبر (اے پی پی):سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ تحقیق پر مبنی قانون سازی ترقی پسند اور فلاحی معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، اکیڈیمیا اور ماہرین کی آراءاور معاونت قانون سازی کے عمل میں کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو پارلیمنٹ ہائوس میں غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی صوابی (جی آئی کے آئی ) اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مابین مفاہمت کی یادداشت کی دستخطی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرنے کہا کہ ماہرین تعلیم اور اکیڈمیا کی ماہرانہ آراءقائمہ کمیٹیوں میں قانون سازی کے عمل کو موثر بنانے کے لئے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹیوں میں تعلیمی اور تحقیق پر مبنی قانون سازی ملک کو درپیش مسائل کو حل کرنے اور مستقبل میں پالیسی وضع کرنے میں معاون ثابت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں توانائی، سائنس اور ٹیکنالوجی کی کمی کی وجہ زراعت کے شعبے کو سنگین مسائل کا سامنا ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے محققین اور دانشوروں کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے جی آئی کے آئی کی توسیع کے لئے یونین کونسل (بتاکارا )میں اراضی کی الاٹمنٹ کے لئے خیبرپختونخوا حکومت سے بات کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
جی آئی کے آئی کے پرو ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر جمیل النبی نے موثر قانون سازی کے لئے مقننہ میں دانشوروں کے مابین تعاون کے سپیکر کے وژن کی تعریف کی۔ انہوں نے سپیکر اسد قیصرکو توانائی، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے متعلق قائمہ کمیٹیوں کو جی آئی کے آئی کے مابین تعاون اور قریبی رابطوں کی یقین دہانی کرائی۔
مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کی تقریب میں ممبر قومی اسمبلی و چیئرمین قائمہ کمیٹی توانائی چوہدری سالک حسین، سیکرٹری قومی اسمبلی طاہر حسین سمیت قومی اسمبلی کے سینئر افسران اور جی آئی کے آئی کے فیکلٹی ممبران نے شرکت کی۔











