پشاور،28اکتوبر(اے پی پی): انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے آج سنٹرل پولیس افس پشاور میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ جس میں جسٹس سسٹم سپورٹ پروگرام (JSSP) کے وفد نے ایڈم سمتھ نیشنل ٹیم لیڈر DFID کی سربراہی میں شرکت کی۔ اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی پی ہیڈکوارٹرز ڈاکٹر اشتیا ق مروت ،ایڈیشنل آئی جی پی انوسٹی گیشن فیروزشاہ، ڈی آئی جی ہیڈکو ارٹرزسلمان چوہدری، کمانڈ نٹ ایلیٹ محمد سعید وزیر ، کمانڈ نٹ ایف آر پی ساجد علی خان، اے آئی جی آپریشنز آصف اقبال مہمند اور ڈی پی او مردان ڈاکٹر زاہد اللہ نے بھی شرکت کی۔
اس موقع پر JSSP کی جانب سے اجلاس کے شرکاءکو رول آف لاءاور خواتین کی پولیس تک بر وقت اور آسان رسائی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو ” رول آف لاءریفارمز“ پروگرام کے تحت جاری اقدامات اور کاوشوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ نظام تفتیش کو بہتر بنانے ، پولیس اور پراسکیویشن کے درمیان کوارٹرڈینیشن اور باہمی تعاون کو موثر کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔تاکہ مقدمات میں ملزمان کی سزاﺅں کو یقینی بنایا جائے۔
اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی پی انوسٹی گیشن نے بچوں کے ساتھ زیادتی اور عورتوں پر تشدد کے واقعات کے بارے میں ایک تفصیلی بریفنگ دی۔ انھوں نے کہا کہ اس سال بچوں کے ساتھ زیادتی کےمقدمات میں 284ملزمان پکڑے گئے ۔ بچوں کے ساتھ زیادتی اور عورتوں پر تشدد کے مقدمات میں ملزمان کو فوری اور قرار واقعی سزا دلوانے کیلئے فیصلہ کیا گیا کہ زیادتی کے شکار افراد کی FIRکے صحیح اندراج اور رہنمائی کیلئے پولیس تھانہ میں قانونی ماہر کاتقرر کیا جائے گا، مقدمات کی سماعت ماڈل کورٹس میں ہو گی، تفتیشی افسروں کی خصوصی تربیت کا اہتمام کیا جائے گا، لوگوں میں آگاہی کیلئے مہم چلائی جائے گی اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے مرتکب افراد پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے آئی جی پی نے کہاکہ کریمنل جسٹس سسٹم اور نظام تفتیش میں بہتری کے لیے برٹش ہائی کمیشن کے ادارے جسٹس سسٹم سپورٹ پروگرام کا ” رول آف لاءریفارم“ ایک مفید پروگرام ہے۔ جس کے تحت ہونے والی کاوشوں اور اقدامات میں خیبر پختونخوا پولیس بھر پور تعاون کو ہر صورت یقینی بنائے گی۔ ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی کا مزید کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا پولیس جرائم کے واقعات کی روک تھام اور تفتیش کے عمل کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دے رہی ہے جبکہ سنگین جرائم کی تفتیش میں جدید فارنزک اور جیو فکسنگ اور دیگر جدید علوم پر انحصار بڑھایا جا رہا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس اور پراسیکوشن سمیت دیگر اداروں کے قریبی تعاون سے نظام تفتیش کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ امور میں بھی بہتری آرہی ہے اور جرائم کے قلع قمع کے ساتھ ساتھ شہریوں کے مسائل کے حل کا عمل بھی تیز ہو رہا ہے ۔
آئی جی پی نے مزید کہا کہ بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری ان کی اولین ترجیح ہے اور کہا کہ بچوں اور عورتوں کے ساتھ زیادتیوں کا سخت نوٹس لیا جارہا ہے اور اس ضمن میں اعلیٰ پولیس حکام کو باقاعدگی کے ساتھ ہدایات بھی دی جاتی ہیں کہ بچوں سے زیادتی اور عورتوں پر تشدد کے واقعات رونما ہونے سے پہلے ان کے تدارک کے لیے بھر پور کوششیں جاری رکھی جائیں اور ان جرائم کی صورت میں فوری ایکشن لیتے ہوئے ملزمان کو بلا تاخیر گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان مقدمات میں زیادتی کے شکار بچوں اور عورتوں کو بھر پور قانونی مدد فراہم کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کی حفاظت اور فوری انصاف کی فراہمی پولیس کے فرائض میں شامل ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان مقدمات میں لوگ آپس میں راضی نامہ کر لیتے ہیں، یا گواہ عدالت میں پیش نہیں ہوتے جس سے مقدمات کمزور ہوجاتے ہیں اور ملزمان سزاﺅں سے بچ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جرائم کی روک تھام میں عوام کو پولیس سے بھر پور تعاون کرنا چاہئے تاکہ معاشرے کے ان ناسوروں کو کیفر کردار تک پہنچاکر جرائم سے پاک خوشحال معاشرے کے قیام کو یقینی بنایا جاسکے۔
وفد کے ارکان نے پولیس کی جانب سے شروع کئے گئے مختلف پراجیکٹس میں گہری دلچسپی لی اور ان کو مزید بہتر اور عوامی مفاد میں بنانے کے لیے اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین بھی دلایا۔











