پاکستان جلد ہی پاک افغان بارڈر پر کراسنگ پوائنٹس کو کھول دے گا،   چیئرمین سینیٹ  محمد صادق سنجرانی

78

اسلام آباد۔28اکتوبر  (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ افغان وفد کی تجارت و سرمایہ کاری سے متعلق دو روزہ سیمینار میں شرکت پر شکر گزار ہیں، سیمینار سے سرمایہ کاری اور تجارت کے شعبوں میں نئے مواقع تلاش کرنے میں مدد ملے گی، رابطہ کا اقتصادی ترقی اور خوشحالی ہمارا ویژن ہے،  پاکستان کی حکومت، پارلیمان اور عوام افغانستان کے ساتھ دو طرفہ برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتی ہے، پاک افغان تعلقات مشترکہ تاریخی، ثقافتی اور مذہبی مماثلتوں پر مبنی ہیں۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے  افغان وزیر تجارت و صنعت نثار احمد فیضی غوریانی کی سربراہی میں افغان وفدسے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے بدھ کو  ان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ افغان وفد کی تجارت و سرمایہ کاری سے متعلق دو روزہ سیمینار میں شرکت پر شکر گزار ہیں۔ سیمینار سے سرمایہ کاری اور تجارت کے شعبوں میں نئے مواقع تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔  انہوں نے کہا کہ رابطہ کا اقتصادی ترقی اور خوشحالی ہمارا ویژن ہے۔

 پاکستان کی حکومت، پارلیمان اور عوام افغانستان کے ساتھ دو طرفہ برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتی ہے۔  انہوں نے کہا کہ پاک افغان تعلقات مشترکہ تاریخی، ثقافتی اور مذہبی مماثلتوں پر مبنی ہیں۔ چیئرمین سینیٹ نے باہمی تعاون کو اقتصادی و پارلیمانی روابط کے ذریعے مستحکم کرنے کے عزم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ مضبوط اور موثر پارٹنرشپ کا خواہاں ہے۔پر امن اور خوشحال افغانستان پاکستان کے وسیع تر قومی مفاد میں ہے۔افغان مذاکراتی عمل ایک تاریخی موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان قیادت اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھا کر مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرے۔امن مذاکرات میں سب کو شامل ہونا چاہے تاکہ تمام افغان اس امن عمل کی اونر شپ لیں اور حل کا حصہ بنیں۔چیئرمین سینیٹ  نے کہا کہ پائیدار اور دیر پا امن کیلئے سب کا شامل ہونا ضروری ہے۔عوامی سطح پر روابط پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بنیادی عنصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔پاکستان جلد ہی پاک افغان بارڈر پر کراسنگ پوائنٹس کو کھول دے گا۔ پاکستان نے افغان شہریوں کیلئے ویزا پالیسی میں نرمی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تعلیم، صحت اور فضائی رابطوں کی سہولت کیلئے بھی اقدامات اٹھا رہا ہے۔تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں کیلئے دونوں ملکوں کوموجودہ استعداد کا بھر پور استعمال کرنا ہوگا۔کورونا وائرس کی  وبا کے دوران دوطرفہ تجارت کیلئے پاک افغان سرحد کو خیر سگالی جذبے کے تحت کھولا گیا ہے۔سی پیک کے ذریعے افغانستان کے راستے وسطی ایشیا تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبے کے ذریعے اقتصادی سرگرمیوں اور رابطہ کاری کو بھر پور طریقے سے بڑھایا جا سکتا ہے۔پاکستان خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کا فروغ چاہتا ہے۔