فرانسیسی سفیر کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کروا  دیا۔مولانا طاہر اشرفی

87

لاہور 26 اکتوبر (اے پی پی ):پاکستان علما کونسلُ کے چئیرمین اور وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی مولانا طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ ہم سب کے دل زخمی ہیں چرچ آف پاکستان سے پیغام دینا چاہتے ہیں آسمانی مذہب کا ماننے والا امن و استحکام کا دشمن نہیں ہو سکتاکوئی حضرت موسی و عیسی انجیل تورات کو تسلیم نہ کرے تو وہ مسلمان نہیں ہو سکتا بدقسمتی سےاسلامی فوبیا کےباعث یورپ اور بھارت میں مسحییوں کو نشانہ دو سو چرچ اور پچاس پادریوں کو قتل کر دیا گیا۔فرانس میں تسلسل سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے اور قرآن کریم کو نذر آتش کیاجارہاہےفرانسیسی صدر کو خاکوں کو نشر کرنے اور بلڈنگ پر لگانے کی اجازت سے امن پسند ممالک متاثر ہورہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ  چرچ آف پاکستان سے دنیا کو پیغام دیں گے نفرت شدت و انتہا پسندی کے خاتمے کےلئے اقوام متحدہ سے عام آدمی کو اپنا کردار اداکرناہوگا کوئی عیسی، موسی علیہ السلام یا خاتم النبین کی گستاخی کرے تو وہ امن کا سفیر نہیں ہو سکتا۔انہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ  دنیا بھر کے امن پسند جمع ہوں مقدسات اور خاکوں کو بنانے یا فرانسیسی صدر کو ایسے واقعات کا سدباب کرنا چاہئیےپاکستان میں مسلم و غیر مسلم ایک جگہ کھڑے ہیں کہہ رہے ہیں امن قائم کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ابوظہبی میں عالمی کانفرنس میں بھائی چارے کا درس دیاگیاگستاخانہ خاکوں سے بین المذاہب ہم آہنگی کو نقصان پہنچ رہے ہیں پرامن احتجاج حق ہے اگر اس احتجاج میں تشدد ہو یا اپنی املاک کو جلائیں تو مقدس شخصیات کی تعلیمات کے خلاف ہوگاحکومت نے جو گستاخانہ خاکوں پر اپنا موقف اپنایا وہ دنیا میں سرفہرست ہے ۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں قانون سازی اور او آئی سی میں گستاخانہ خاکوں پر موثر آواز اٹھائی جائےاقوام متحدہ میں ایسا قانون پاس ہو تمام مقدس شخصیات اور مقدس کتب کی گستاخی نہ کی جائے تاکہ امن کو فروغ ہو سکےپورے ملک میں مذہبی ہم آہنگی کونسل بنانے جارہے ہیں جو ضلعی سطح تک پھیلائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ فرانسیسی سفیر کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کروایاگیاہے وزارت خارجہ میں احتجاج کیاگیا عمران خان نے اقوام متحدہ میں جاکر منہ پر ہاتھ پھیر کر ناموس کی بات کی وزیر اعظم او آئی سی میں جاکر اکیلے آدمی نےعالم اسلام کی بات کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کےلئے کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں کوئی یہ نہ سمجھے ہمیں ناموس سے زیادہ کوئی چیز عزیز ہےآقا کے آگے سرخرو ہوں گے عالم اسلام سے رابطے میں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی بلوچستان یا کسی دوسرے صوبے کو پاکستان سے جدا نہیں کر سکتا۔جب تک عالمی سطح پر قانون سازی نہیں ہو گئ اس وقت ایسے واقعات نہیں رک سکتے ہم مستقل بنیادوں پر خاکوں کا حل چاہتے ہیں اس پر کام ہورہاہےسب سے پہلا بیان او آئی سی پر آیا خاکوں پر کام ہورہاہے پاکستان باقاعدہ قرارداد لے کر جا رہے ہیں ناموس مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر پوری امت کااتفاق ہے توہین کا سلسلہ بند ہونا چاہئے اور عالمی سطح پر قانون سازی ہونی چاہئیے۔