پاک فوج ملک کے امن و استحکام اور سلامتی کی ضامن ہے؛ معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل

133

لاہور،3 اکتوبر (اے پی پی ): وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ہے کہ فوج ملک کے امن و استحکام اور سلامتی کی ضامن ہے، ہماری فوج ہمیں کوئی صحیح کام کرنے سے نہیں روکتی، اگر ہماری کوئی کوتاہی ہے تواس کا ملبہ فوج پر نہیں ڈالا جا سکتا، نواز شریف کا ہمیشہ آرمی سے ہی جھگڑا رہا کیونکہ فوج ہی وہ واحد ادارہ ہے جو ملکی مفاد کے خلاف اقدامات پر نوازشریف سے سوال پوچھتا ہے۔

وہ ہفتہ کے روز پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ ڈاکٹر شہباز گل  نے کہا کہ  میں نوازشریف کو ملک دشمن نہیں کہہ رہا بلکہ وہ لالچی بزنس مین ہیں جو پیسے کے لیے را کے ایجنٹ بن جاتے ہیں، نوازشریف کی تقریر کو ملک دشمن قوتیں اور بھارت آنے والے دنوں میں کس طرح استعمال کرسکتا ہے انہیں اندازہ ہی نہیں ہے، عاصم سلیم باجوہ نوازشریف کو اس لیے کھٹکتے ہیں کہ انہوں نے کلبھوشن کو پکڑاتھا، جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ پر جوالزامات لگے اس کا انہوں نے تحریری جواب دیدیا ہے ،حکومت ان کے جواب سے مطمئن ہے، کسی کو اعتراض ہے تو عدالت چلا جائے،نوازشریف اداکاری کرتے تو زیادہ پیسہ کماسکتے تھے۔

 ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ ن لیگ سازشی لیگ بن چکی ہے، نواز شریف سے کوئی سیاسی خطرہ نہیں، لیگی قائد کی باتوں سے مستقبل میں پاکستان کو نقصان ہوگا، متنازعہ بیانات ملک دشمن اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کریں گے، وہ چاہتے ہیں کہ کرپشن پر ان سے کوئی پوچھ گچھ نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ عدالتوں نے نواز شریف کو مجرم ڈکلیئر کر رکھا ہے، لیگی قائد کے بھائی نے 4 ہفتے میں ان کی واپسی کی ضمانت لی تھی اور انہوں نے خود ہی ضمانت کی درخواستیں واپس لیں، شریف فیملی نے پراپیگنڈا کیا کہ حکومت نے ان کی ضمانتیں منسوخ کرا دیں، پیسہ آپ کا پکڑا گیا، جواب بھی آپ کو ہی دینا ہے،(ن)لیگ کے کچھ لوگوں نے چھوٹی موٹی چوریاں کی ہیں لیکن وہ غدار نہیں اور نہ ہی وہ نواز کے فوج کے خلاف بیانیہ کے حق میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میرا مو قف تھا نواز شریف کو تقریر کی اجازت نہ دی جائے، لیگی قائد کی چند تقاریر ملکی مفاد میں نہیں تھیں، 10 ماہ بعد پتہ چلے گا کہ ان تقریروں کا کیا نقصان ہوا، نواز شریف نے بھارت میں حریت کانفرنس کے رہنماو ں سے ملنے سے انکار کیا، لیگی قائد کو جندال سے ملاقات کا جواب دینا ہوگا، کیا پاکستان کا کوئی بزنس مین بھارت جا کر ان کے وزیراعظم سے مل سکتا ہے ، یہ ٹبر بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے لیے کام کرتا ہے۔

معاون خصوصی نے مزید کہا کہ پٹھان کوٹ کا واقعہ ہوا تو جندال نے وہی بیان دیا جو نواز شریف کا بیانیہ ہے، نواز شریف نے بھارتی وزیراعظم سے کٹھمنڈو میں خفیہ ملاقات کی، نواز شریف بتائیں رائےونڈ میں مودی سے ملاقات میں دفاعی اداروں کے اہلکاروں کو رسائی کیوں نہیں دی گئی، نواز شریف نے مودی کی دی ہوئی لال رنگ کی پگ پہن کر مودی کو خلوص کا پیغام بھیجا، مودی نے ٹویٹ کیا کہ لاہور ایئر پورٹ پر نواز شریف کے استقبال سے بہت متاثر ہوا، آپ مودی کو اپنے گھر میں دعوت کیسے دے سکتے ہیں۔

شہباز گل نے کہا کہ نواز شریف آج جمہوریت کے چیمپئن بن رہے ہیں، ڈان لیکس پر غصہ آیا تو پرویز رشید کو فارغ کر دیا، تسنیم اسلم کو بھارت کیخلاف بیانات سے منع کیا گیا، نواز شریف اداروں کو الزام دینا بند کر یں اور اثاثوں کا جواب دیں۔ انہوں نے کہا کسی کو شک نہیں بھارت پاکستان کو توڑنا چاہتا ہے، کوئی شک نہیں بھارت سرحدوں پر پاکستان کیخلاف سرگرم ہے، بھارت ہر وقت پاکستان کو نقصان پہنچانے کی تاک میں رہتا ہے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ نواز شریف نے منگل کو لندن میں جس سفارتخانے میں ملاقات کی ہمیں علم ہے، سب کو علم ہے پنجاب میں انفارمیشن سسٹم کیسے استعمال کیا جاتا تھا، کلبھوشن کو پکڑا گیا تو ان کے منہ سے اس کا نام نہیں نکلا،پرویز رشید نے کس طرح پریس کانفرنس کی سب کو پتہ ہے، خدارابھارت کے ایجنڈے کو آگے نہ بڑھائیں۔

 انہوں نے کہا کہ دشمن چاہتے ہیں پاکستان کے اداروں کو متنازعہ بنا کر کمزور کیا جائے، افواج پاکستان ملک میں امن و استحکام اور سلامتی کی ضامن ہیں۔ کورونا، ٹڈی دل، سیلاب سمیت ہر چیلنج میں فوج حکومت کیساتھ رہی۔معاون خصوصی نے کہا کہ نوازشریف کا پیسہ پکڑا گیا ہے جس کا انہیں جواب دینا ہے، آپ چاہے الطاف حسین بنیں ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے آپ بس پیسوں کا حساب دیں، لندن میں جس سفارتخانے میں آپ گئے اور ملاقات کیں ہمیں سب معلوم ہے، آپ انڈیا کے ایجنڈے پرنہ چلیں اور فوج کیخلاف زہر نہ اگلیں، نوازشریف نے جدہ سے واپس آکر جھوٹ بولا تھا اور اس وقت مجھے بھی ان کی باتوں پر یقین آگیا تھا، وہ جب پھنستے ہیں جمہوریت کے چیمپئن بننا شروع کردیتے ہیں۔

شہباز گل نے کہا کہ ن لیگ کے ایم پی اے ہمارے پاس آکر اپنے حلقے کے کام کے لیے رابطہ کرتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے،میں جب پنجاب میں تھا تون لیگ کے 32 اراکین پنجاب اسمبلی نے رابطہ کیا تھا،پیمرا نے ہمارے کہنے پر نہیں بلکہ ایک شہری کے عدالت میں جانے پر نواز شریف کی تقریر کو نشر کرنے سے روکا،سوشل میڈیا پر پاکستانی عوام ان کا علاج خود کر لے گی جیسے الطاف حسین کا کیا۔