کراچی۔ 7اکتو بر ( اے پی پی ): وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ شکایتیں تب ہوتی ہے جب شفافیت نہیں ہوتی ، یہ پہلی دفعہ ہے کہ حکومت نے شفاف طریقے سے اخبارات کو اشتہارات دئے ہیں جس کا ریکارڈ بھی موجود ہے ۔ یہ بات انہوں نے بدھ کو آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائیٹی (اے پی این ایس) کے دفتر میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ تقریب میں صدر اے پی این ایس حمید ہارون نے وزیر اطلاعات کو پرنٹ میڈیا کے مسائل کے حوالے سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری جنرل اے پی این ایس سرمد علی اور دیگر عہدیداران نے بھی اظہار خیال کیا۔ اجلاس میں اے پی این ایس کے عہدیداران اور ممبران کی کثیر تعداد موجود تھی ۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینٹر شبلی فراز نے کہا کہ کراچی میں مختلف میڈیا کمیونٹی سے وابستہ لوگوں سے ملاقاتیں ہوئی ہیں جو مسائل ان لوگوں نے اٹھائیں وہ اس میں ایسا کوئی مسلہ نہیں ہے جو حل نہ ہوسکتا ہوں ۔انہوں نے کہا کہ مجھے آپ لوگوں سے مل کر بے حدخوشی ہے اور اپنائیت محسوس ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میری خوش قسمتی ہے کہ میری وزارت کا تعلق لکھنے والے طبقے سے ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ صحافتی کمیونٹی کے اندر جو غیرصحافی بیرونی عناصرہے ، جو اس پیشے سے منسلک نہیں ہے ، ان کو ہمیں اپنے صفوں سے نکالنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ 15 سو سے زائد اخبارات ہے ،اس میں ڈمی اخبارات بھی ہیں جس کی وجہ سے لوگ کمیونٹی پر سوالات اٹھاتے ہے ، ہمیں یہ طے کرنا ہوگا اور اس کے لئے منظم کوشش کرنی چاہئے کہ ان کی وجہ سے حقیقی لوگوں کے حقوق متاثر نہ ہوں ۔ شبلی فراز نے کہا کہ ایسا نظام چاہ رہے ہیں جس میں کسی کی اجارہ داری نہ ہو بلکہ سب کے لئے یکساں مواقع ہوں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نے اس کمیونٹی کا معیار اور مقام کو بحال کرنا ہے اور اس کے لئے اپ لوگوں کا تعاون ضروری ہے ۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سندھی سمیت دیگر علاقائی اخبارات ہمارے لئے بہت اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کی وجہ سے پاکستان سمیت پوری دنیا مشکل دور سے گزر رہی ہے اور ہماری پہلے سے درپیش مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے اور تمام شعبہ جات اس سے متاثر ہوئے ہیں ۔











