قبائلی اضلاع کا انضمام نئی نسل کی قسمت بدل کر رکھ دے گا۔ آئی جی پی ثناء اللہ عباسی

280

پشاور، 11 نومبر(اے پی پی): انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے کہا ہے کہ نوجوان نسل پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی ضامن ہے۔ ضم شدہ اضلاع میں بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنادیا گیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج فاٹا یونیورسٹی درہ آدم خیل کوہاٹ کے طلباءو طالبات اور فیکلٹی ممبران کو ” قبائلی اضلاع کے انضمام“ پر آن لائن لیکچر دیتے ہوئے کیا۔ آئی جی پی نے اپنے لیکچر میں قبائلی علاقوں کے عوام کی زندگیوں میں انقلاب لانے کے لیے اب تک اٹھائے گئے حکومتی اقدامات اور آئندہ کے اقدامات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام نے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ملک کر دہشت گردی کا جوانمردی سے مقابلہ کیا اور خطے میں دیر پا امن کے قیام کے لیے بیش بہا قربانیاں دیں۔ انضمام کے بعد تمام محکموں بالخصوص پولیس اور عدلیہ کا دائرہ کار اُن علاقوں تک بڑھا کر مقامی افراد کو قانون اور آئین میں حاصل ہر قسم کے بنیادی انسانی حقوق بحال کرکے ان کی محرومیوں کا ازالہ کردیا گیا ہے۔

آئی جی پی نے کہا کہ تقریباً 29 ہزار لیویز اور خاصہ داروں کو پولیس فورس میں ضم  کردیا گیاہے  اور اب ان کی تربیت کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ جسمانی تربیت کے ساتھ ساتھ ان کی اکیڈمک ٹریننگ بھی کی جارہی ہے۔ اسی طرح قبائلی اضلاع میں بھرتی کا عمل شروع کرکے تعلیم یافتہ نوجوان نسل کو پولیس میں بھرتی کیا جارہاہے ۔ جس سے ایک نئی تعلیم یافتہ، اعلیٰ اخلاق اور اقدار کے حامل پولیس بن کر اُبھرے گی۔ آئی جی پی نے مزید کہا کہ سی ٹی ڈی، سپیشل برانچ اور ہائی ویز پولیس کو قبائلی اضلاع میں تعینات کردیا گیا ہے۔ جس سے ان علاقوں میں سیکیورٹی کا ایک نظام (Paradigm) متعارف ہوگا۔ آئی جی پی نے کہا کہ قبائلی علاقوں تک عدالتوں کا دائرہ اختیار بڑھانے سے بنیادی انسانی حقوق کی بحالی کی راہ ہموار ہوگئی ہےاور کہا کہ بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ اور انصاف کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

آئی جی پی کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک کی 70 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے بالخصوص یونیورسٹی طلباءوطالبات ذرخیز ذہن کے مالک ہوتے ہیں۔ ان کی شراکت نئے نظام کے قیام اور دوام کے لیے سنگ میل ثابت ہوگی۔ اور ان پر زور دیا کہ وہ ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے آگے بڑھ کر اپنا اہم کردار ادا کریں۔

اس موقع پر یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس نے فاٹا انضمام کے بارے میں سوال پوچھے جن کے آئی جی پی خیبر پختونخوا نے تفصیل سےجواب دیے ۔ آن لائن لیکچر میں ضم شدہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے طلباءو طالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ  آئی جی پی کا  لیکچر 10 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے سوشل میڈیا پر آن لائن دیکھا اور سنا۔

 اس موقع پر فاٹا یونیورسٹی کوہاٹ کے رجسٹرار نے آئی جی پی کا شکریہ ادا کیا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس طرح کے لیکچرز کا انعقاد باقاعدگی کے ساتھ ہونا چاہئے تاکہ نئی نسل کو درپیش چیلنجز کے بارے میں آگاہی حاصل ہو اور ان کا مستقبل محفوظ بنانے میں ان کی بھر پور مدد کی جائے۔