پشاور،26 نومبر(اے پی پی): گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان نے کہا ہے کہ صوبہ کی پبلک سیکٹرز یونیورسٹیوں میں مالی بحران اور بجٹ کے مسائل کی اصل وجوہات کو دیکھنا چاہئیے، بجٹ کی تیاری اور اخراجات کی ترجیحات کا جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے۔
یہ بات انہوں نے جمعرات کے روز زرعی یونیورسٹی پشاور کے 7ویں سینٹ اجلاس کی صدارت کے دوران کی۔ اس موقع پر انہوں نے محکمہ اعلی تعلیم کو ماہرین تعلیم اور تکنیکی ایکسپرٹس پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی جو کہ تمام پبلک سیکٹرز یونیورسٹیوں کو درپیش مالی بحران اور بجٹ مسائل سے متعلق جائزہ لے کر اپنی تجاویز مرتب کرے گی۔ گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ مالی بحران اور بجٹ کے مسائل کی وجہ سے پبلک سیکٹرز یونیورسٹیوں میں سارا بوجھ طلباء پر پڑتا ہے جس کی وجہ سے غریب طلباء کیلئے مشکلات بڑھ گئی ہیں۔
اجلاس میں یونیورسٹی ملازمین کی اپ گریڈیشن کی منظوری دی گئی جبکہ پروفیسرز اور اسسٹنٹ پروفیسرز(TTS) کی تعیناتی کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو کہ مذکورہ ملازمین کی تعیناتی سے متعلق رولز اور دیگر معاملات کاجائزہ لے گی۔
اجلاس میں زرعی یونیورسٹی کے اینیمل ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو کالج آف ویٹرنری سائنسز میں تبدیل کرنے کی بھی منظوری دی گئی اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جہان بخت نے یونیورسٹی کی مجموعی کارکردگی، سالانہ پلان، یونیورسٹی کے آڈٹ رپورٹ سمیت سالانہ بجٹ پر تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس میں صوبائی وزیر زراعت و لائیو سٹاک محب اللہ خان کے علاوہ، پرنسپل سیکرٹری برائے گورنر محمد ادریس، سیکرٹری محکمہ زراعت محمد اسرار، ایڈیشنل سیکرٹری فنانس سفیر احمد سمیت سینٹ کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔











