اسلام آباد، 29 جون (اے پی پی ): وفاقی وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی نے وزارتِ خزانہ میں کاروباری برادری، برآمدکنندگان، وزارتِ تجارت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ایک مشاورتی اجلاس کی صدارت کی، جس میں ٹیکس اصلاحات، برآمدات کے فروغ اور کاروباری ماحول کو مزید سازگار بنانے سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں تجارتی سرگرمیوں میں سہولت، صنعتی مسابقت بڑھانے اور برآمدات پر مبنی اقتصادی ترقی کے فروغ کے لیے مختلف پالیسی اور انتظامی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
کاروباری برادری کے نمائندوں نے کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے، صنعتی شعبے کی استعداد بہتر بنانے اور پاکستان کی برآمدی مسابقت میں اضافے سے متعلق اپنی آراء اور تجاویز پیش کیں۔ اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مسلسل مشاورت اور تعاون ناگزیر ہے۔
وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاری، صنعتی ترقی، برآمدات کے فروغ اور اقتصادی استحکام کے لیے کاروباری برادری سے مسلسل رابطے میں رہے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وزارتِ خزانہ، ایف بی آر اور وزارتِ تجارت تمام متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ مل کر تجارت میں سہولت اور برآمدی شعبے کی مضبوطی کے لیے اقدامات جاری رکھیں گے۔
اجلاس میں سابق صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری جاوید بلوانی، صدر سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سید احتشام مظہر، رانا عمران، جمشید مرتضیٰ، سابق صدر کے سی سی آئی زبیر موتی والا، پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے پیٹرن اِن چیف خرم مختار اور ایف اے انٹرنیشنل کے سی ای او اسلم پکھالی سمیت کاروباری برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں سیکریٹری تجارت، ایف بی آر کے ممبر سیلز ٹیکس ڈاکٹر حمید عتیق سرور، چیف کلیکٹر ایکسپورٹس اینڈ آئی او سی او محسن، اور ممبر کسٹمز پالیسی اشہد جواد سمیت دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے بھی شرکت کی ۔











