ملتان ، 29 جون (اے پی پی ): کمشنر ملتان عامر کریم خاں کی زیر صدارت پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت واسا ملتان کے جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ کمشنر نے پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام (PDP) کے تحت 76 بلین روپے کے واسا ملتان ڈویژن کے جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ تمام منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور مقررہ ٹائم لائن کے مطابق ان کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت پنجاب کے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا اصل مقصد عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنا ہے، اس لیے صرف تعمیراتی کام مکمل کرنا کافی نہیں بلکہ منصوبوں کو مکمل طور پر فعال (Functional) بنا کر ان کے عملی فوائد بھی شہریوں تک پہنچائے جائیں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر عامر کریم خاں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنرز خود منصوبوں کی مسلسل نگرانی کریں، سائٹس کے باقاعدہ دورے کریں اور متعلقہ محکموں، کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹرز کے درمیان مؤثر رابطہ یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی رکاوٹ کو فوری طور پر دور کیا جا سکے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ بارشوں کے پیش نظر تمام ڈسپوزل اسٹیشنز، یو ڈی ایس ٹیز (UDSTs) اور دیگر نکاسی آب کے منصوبوں کو جلد از جلد مکمل طور پر فعال بنایا جائے تاکہ شہریوں کو فوری ریلیف مل سکے۔
کمشنر نے کہا کہ جہاں تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے وہاں بیک فلنگ، روڈ ریسٹوریشن، صفائی اور فنشنگ ورک پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ عوام کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے زور دیا کہ منصوبوں کے عملی فوائد بھی عوام کے سامنے لائے جائیں اور واضح کیا جائے کہ کن علاقوں میں پہلے پانی کھڑا رہتا تھا اور منصوبوں کی تکمیل کے بعد صورتحال میں کیا بہتری آئی ہے۔
کمشنر عامر کریم خاں نے بعض منصوبوں میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ مقررہ ڈیڈ لائنز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور ہر منصوبے کی باقاعدہ مانیٹرنگ کے ساتھ معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔
اجلاس میں واسا حکام، کنسلٹنٹس اور ملتان ڈویژن کے ڈپٹی کمشنرز نے منصوبوں پر پیش رفت سے متعلق بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت واسا ملتان میں 25.84071 ارب روپے کی لاگت سے 6 بڑے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے جن میں ڈسپوزل اسٹیشنز کی اپ گریڈیشن، بوسیدہ سیوریج لائنوں کی تبدیلی اور غیر سہولیات یافتہ علاقوں میں سیوریج سروسز کی فراہمی شامل ہے۔ مالی سال 2025-26 کے لیے 4.696 ارب روپے جبکہ جون 2027 تک 21.104 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ منصوبوں کے تحت 232 کلومیٹر آر سی سی سیور لائن، 16 کلومیٹر ایچ ڈی پی ای فورس مین، 168 کلومیٹر ٹف پیورز کی بحالی، 64 کلومیٹر سڑکوں کی بحالی، 33 ہزار 257 مین ہول کورز، 88 پمپس، 43 جنریٹرز اور 40 ٹرانسفارمرز نصب کیے جائیں گے۔ اسی طرح واسا کی استعداد کار میں اضافے کے لیے 2 واٹر باؤزر، 15 ہائیڈرولک لوڈر رکشے، 12 لوڈر رکشے، 2 ایکسکیویٹرز، 24 ڈی واٹرنگ سیٹس، 9 ونچ مشین سیٹس، 6 ہائیڈرولک ٹریکٹر ٹرالیاں اور 6 ڈی سلٹنگ مشینیں بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ منصوبوں کے کریٹیکل کمپوننٹس اگست 2026 جبکہ مجموعی منصوبے دسمبر 2027 تک مکمل کیے جائیں گے۔
اجلاس میں مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے اپنے اپنے اضلاع میں جاری منصوبوں، ڈیزائن، لینڈ ایکوزیشن، لیٹرل سیور، مشینری کی فراہمی، یو ڈی ایس ٹیز کی تکمیل اور دیگر امور پر پیش رفت سے آگاہ کیا۔











