مسلح افواج میں خود احتسابی عمل کی  قدر کرتے ہیں ، ا گر سندھ پولیس بروقت ایف آئی آر درج کر دیتی تو معاملات اتنے پیچیدہ نہ ہوتے ، وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز

250

اسلام آباد،10نومبر  (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے مزار قائد معاملے پر مسلح افواج میں خود احتسابی عمل کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اس فیصلے کی قدر کرتی ہے ، ا گر سندھ پولیس بروقت ایف آئی آر درج کر دیتی تو معاملات اتنے پیچیدہ نہ ہوتے ،  اب سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ   بتائے کہ اس دوران جن پولیس افسران نے بغاوت کی انکے خلاف کیا کارروائی ہوئی ،  سندھ میں بھی قانون کی بالادستی نظر آنی چاہیے ۔ منگل کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے  وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد بریفنگ کے دوران پاک فوج کی کورٹ آف  انکوائری کی رپورٹ بارے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ  مسلح افواج ایک منظم ادارہ ہے ، مزار قائد معاملے پر پاک فوج کے اندر خود احتسابی عمل حرکت میں آیا ہے جس کے بعد دو افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے ،وفاقی حکومت اس عمل کو سراہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ  ان افسران نے عوام کے دبائو پر آئی جی سندھ سے رابطہ کیا تھا ، اگر متعلقہ ایس ایچ او اس معاملے کی ایف آئی آر فوری طور پر درج کردیتے تو معاملات اتنے پیچیدہ نہ ہوتے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت بھی اس معاملے پر انکوائری کر رہی ہے ،ابھی وہ رپورٹ بھی آنا باقی ہے  لیکن سندھ حکومت سے پوچھتے ہیں کہ صوبائی حکومت اور آئی جی سندھ نے ان پولیس افسران کے خلاف کیا کارروائی کی جنہوں نے کام کرنے سے انکار کرتے ہوئے بغاوت کی تھی ، غلط کو غلط کہنا ہی درست بات ہوتی ہے ،نظر آنا چاہیے کہ ہر طرف احتساب ہو رہا ہے ۔