اسلام آباد،2دسمبر (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے گلگت بلتستان میں دو بلند ترین نیشنل پارکس کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ ہمالیہ نیشنل پارک اور نانگا پربت نیشنل پارک چار ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے پر محیط ہیں اور یہ گلگت بلتستان کے مجموعی رقبہ کے پانچ فیصد پر مشتمل ہیں، گلگت بلتستان میں نگہبان کے نام سے پہلی نیشنل پارکس سروس کی بھی منظوری دی گئی ہے، اس سے قدرتی ماحول کے تحفظ کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو گرین روزگار اور ایکو ٹورزم کو فروغ ملے گا۔
بدھ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں نیشنل پارکس قدرتی ماحول اور حیاتیاتی تنوع کے حوالے سے منفرد حیثیت کے حامل ہیں جہاں پودوں اور جانوروں کی بعض نایاب اقسام پائی جاتی ہیں۔ امین اسلم نے کہا کہ ہمالیائی ریچھ، برفانی چیتے، مارخور، آئبیکس، لداخ اڑیال نمایاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان دو نیشنل پارکس کا اعلان وزیراعظم کے پروٹیکٹڈ ایریاز کے پروگرام کے تحت کیا گیا ہے جس کا مقصد پاکستان کے قدرتی ماحول کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2018 تک نیشنل پارکس کی تعداد 30 تھی جو صرف کاغذوں پر تھے لیکن وزیراعظم عمران خان کے پروٹیکٹڈ ایریاز کے پروگرام کے تحت محض 8 ماہ کے دوران ملک میں نیشنل پارکس کی تعداد پچاس فیصد اضافے کے ساتھ 45 تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام نیشنل پارکس کے لئے کمیونٹی پر مبنی مینجمنٹ کا نظام لایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اس مقصد کے لیے گلگت بلتستان میں نگہبان کے نام سے پہلی نیشنل پارکس سروس کی بھی منظوری دے دی ہے۔ اس سے صوبے کے پانچ ہزار نوجوانوں کو گرین روزگار بھی ملے گا۔ ان نگہبان کو باقاعدہ تربیت دی جائے گی جو علاقے میں حیاتیاتی تنوع اور قدرتی ماحول کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ایکو ٹورزم کے فروغ کے لئے بھی ان پارکس میں ذمہ داریاں سر انجام دیں گے۔
ملک امین اسلم نے کہا کہ گلگت بلتستان میں دو نیشنل پارکس کے قیام کے اعلان کے بعد علاقے میں ایک منفرد اور بلند وبالا نیچر کوریڈور بھی وجود میں آئی ہے جو گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد جموں وکشمیر کو باہم منسلک کرتی ہے۔ اس سے علاقائی جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے ایک محفوظ اور منظم کوریڈور میسر آ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے کی نایاب لداخ اڑیال کے تحفظ اور اس کی قدرتی ماحول میں افزائش نسل کا انتظام بھی کیا جا رہا ہے تاکہ بقا کے خطرہ سے دوچار اس نسل کی تعداد بڑھائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے کی جانب سے شجر کاری منصوبہ کے بارے میں نوٹس خوش آئند ہے، بلین ٹری سونامی پروگرام کے تحت کی گئی شجر کاری کے بارے میں رپورٹ مکمل شواہد کے ساتھ پیش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قدرتی ماحول کے تحفظ کی اہمیت اجاگر ہوئی ہے، پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ پانچ ممالک میں شمار ہوتا ہے، ان اثرات کی سنگینی کے پیش نظر بلین ٹری سونامی پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے جو آنے والی نسلوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لئے بہت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بلین ٹری منصوبہ کے تحت ہدف سے زائد پودے لگائے گئے جبکہ اس پر تخمینہ سے کم لاگت آئی ہے۔ منصوبے کا تھرڈ پارٹی پرفارمنس آڈٹ بھی کروایا گیا ہے۔ یہ منصوبہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے دنیا بھر میں اسے ماڈل منصوبے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت قدرتی ماحول کے تحفظ کے لئے پرعزم ہے اور اس حوالے سے انقلابی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔











