اسلام آباد،2دسمبر (اے پی پی):وزیر اعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر نشتر نے کہا ہے کہ احساس ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام خواتین کو بائیو میٹرک اے ٹی ایم اور بینک جانے کی ترغیب دیتا ہے اور انہیں مالی شمولیت کے نظام کے ذریعے بااختیار بناتا ہے۔ میں کفالت کی مستحق خواتین کو نامزد شراکت دار بینکوں کی اے ٹی ایم مشینوں سے نقد رقم نکالنے پر حوصلہ افزائی کروں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ سہولت انہیں نہ صرف مالی بدعنوانی سے تحفظ فراہم کریگی بلکہ موجودہ بیلنس کی رسید بھی مہیا کرے گی۔
وزیر اعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے اے ٹی ایمز کے ذریعے رقم نکلوانے کے معیار میں بہتری لانے سے متعلق تیاریوں کا جائزہ لینے کیلئے آج میلوڈی مارکیٹ اسلام آباد میں واقع ایچ بی ایل برانچ کا دورہ کیا، انہوں نے احساس مستحقین سے بات چیت کی اور انہیں اے ٹی ایم کے ذریعے بیلنس معلوم کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے اس بات کا بھی جائزہ لیا کہ ایچ بی ایل کس طرح غریب طبقے کیلئے سازگار ماحول مہیاکرتا ہے جنہوں نے کبھی بینک کی خدمات استعمال نہ کی ہوں اورا نہیں نئے بائیومیٹرک ادائیگی کے نظام کا علم نہ ہو۔انہوں نے احساس کفالت مستحقین کیلئے اے ٹی ایمز کے استعمال کو بہتر بنانے کیلئے ہدایات بھی دیں۔ احساس کفالت مستحقین کے پاس بائیومیٹرک پر مبنی اے ٹی ایم، بائیومیٹرک ریٹیل شاپ یا متعلقہ بینکوں کی کسی بھی بائیومیٹرک طور پر فعال برانچ جانے کا موقع موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ احساس کے تحت، پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں ایچ بی ایل جبکہ خیبر پختونخواہ، گلگت بلتستان اور آزاد جموں وکشمیر میں بینک الفلاح کے ذریعے رقوم کی ادائیگی ہوگی۔ دونوں بینک ملک بھر میں خدمات کو بڑھارہے ہیں تاکہ خواتین کو مہذب انداز میں رقوم کی ادائیگی کو یقینی بنایا جاسکے۔ گزشتہ ہفتے احساس کفالت کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے، وزیر اعظم عمران خان نے احساس کفالت سے مستفید ہونے والوں کی تعداد 4.6ملین سے بڑھا کر 7ملین کرنے کی منظوری دی تھی۔ احساس کفالت پالیسی کے تحت نئے مستحق گھرانوں کی نشاندہی کی جائے گی۔ غربت سروے اور اعدادو شمار کا تجزیہ ملک بھر میں مکمل ہونے کے قریب ہے ۔ نیز سروے میں رہ جانے والے گھرانوں کیلئے ہر ضلع میں تحصیل سطح پر احساس رجسٹریشن ڈیسک کاآپشن موجود ہے۔ مخصوص ضلع میں رجسٹریشن ڈیسک کا قیام غربت سروے کی تکمیل سے منسلک ہے۔ احساس کفالت حکومت کی جانب سے سماجی تحفظ کا فلیگ شپ پروگرام ہے جس کے تحت ملک بھر کی غریب اور مستحق خواتین کو 2000/-روپے ماہانہ وظیفہ اور بینک اکائونٹس مہیا کئے جاتے ہیں۔
اس ہفتے کے شروع میں بینکوں کے صدرو کیساتھ ایک ملاقات میں ڈاکٹر ثانیہ نے پسماندہ طبقات کیلئے اے ٹی ایمز کے بہتر استعمال پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں فیلڈ سے یہ رائے موصول ہورہی ہے بہت سی بینک برانچوں میں افسران مستحقین کی لمبی قطاروں کوبہتر انداز میں سہولت فراہم نہیں کرپارہے جواس بات کی نشاندہی ہے کہ اے ٹی ایمز کام نہیں کررہے ہیں۔ انہوں نے عوامی مفاد کیلئے اے ٹی ایمز کے استعمال پر زور دیا۔ 7ملین مستحق خواتین کیلئے جولائی2020تادسمبر 2020کی احساس کفالت ادائیگیوں کا آغاز مرحلہ وار بنیادوں پر شروع ہوچکا ہے۔پہلے مرحلہ کے تحت 4.3ملین رجسٹرڈ کفالت مستحقین کو ادائیگیاں کی جارہی ہیں۔ اضافی مستحقین کو دسمبر 2020سے ادائیگیاں کی جائیں گی اور یہ عمل رواں مالی سال میں مکمل ہوگا۔ پروگرام کی مستحقین بے سہار اہوتی ہیں جن کے پاس روزی کمانے کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہوتا۔











