انسپکٹر جنرل   پولیس خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثنااللہ عباسی کی ریجنل پولیس افسران سے ویڈیولنک کانفرنس

180

پشاور،11جنوری  (اے پی پی):انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثنااللہ عباسی کی صدارت میں آج ریجنل پولیس افسران کے ساتھ ویڈیو لنک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں آئی جی پی کو صوبے کی تاریخ میں پہلی بار ضم شدہ اضلاع میں پولیس کانسٹیبلان کی بھرتی کے لیے ایٹا کے ذریعے امتحان انعقاد، دوران ملازمت فوت ہونے والے پولیس اہلکاروں کے بچوں کوبھرتی کرنے، جونیئر کلرک کی آسامیوں کے لیے ایٹا کے ذریعے امتحان کا انعقاد اور جاری پراسس، ملاکنڈ اور ہزارہ ریجن میں ٹریفک وارڈن کے لیے قوائدو ضوابط کو آخری شکل دینے، سپیشل پولیس افسروں کے لیے شہید پیکچ منظور کرنے، ایکس سروس ملازمین کو ملازمت میں توسیع دینے اور ضم شدہ اضلاع میں لیویز اور خاصہ داروں کے لیے کیریئر پلاننگ سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

 اے آئی جی اسٹبلشمنٹ نے اس سلسلے میں آئی جی پی کو تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر آئی جی پی کو بتایا گیا کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار ضم شدہ اضلاع میں پولیس کانسٹیبلان کی بھرتی کا عمل زور و شور سے جاری ہے۔ بھرتی کے لیے ہزاروں کی تعداد میں تعلیم یافتہ امیدواروں نے درخواستیں جمع کرائی ہیں۔ بھرتی کے لیے امیدواروں کا دوڑ میں جوش و جذبے سے حصہ لینا دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔

آئی جی پی کو بتایا گیا کہ بھرتی میں ضلع باجوڑ میں ایٹا ٹیسٹ کا انعقاد ہو کر تاریخ میں سنہرے باب کا اضافہ ہوگیا ہے اور اسکا ریزلٹ ایک دو دن میں امیدواروں کے لیے مشتہر کیا جائیگا۔ پولیس فورس میں آئی جی پی خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثنااللہ عباسی کے جاری کردہ اسٹینڈنگ آرڈر کے تحت دوران ملازمت فوت ہونے والے پولیس اہلکاروں کے بچوں کو پولیس فورس میں بھرتی کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس اسٹینڈنگ آرڈر کی روشنی میں اب تک 198 پولیس ملازمین کے بچوں کو بھرتی کیا گیا، جبکہ کانسٹیل کے معیار پر پورا نہ اترنے والے بچوں کو جونیئر کلرک کی پوسٹوں پر بھرتی کرنے کے لیے دستاویزات کی سکروٹنی کا عمل جاری ہے اور ریجنوں کی سطح پر بہت جلد ان کو پولیس میں بطور جونیئر کلرک بھرتی کیا جارہا ہے۔

بریفنگ کے دوران آئی جی پی کو یہ بھی بتایا گیا کہ پولیس فورس میں 2500 ایکس سروس مین جن کا کنٹرکٹ 31 دسمبر 2020 کو ختم ہو چکا تھا کو ان کی ملازمت میں مزید 6 مہینے کی توسیع کی جارہی ہے۔ اے آئی جی اسٹیبلشمنٹ نے آئی جی پی کو بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریگولر پولیس کے ہمراہ سپیشل پولیس فورس کے اہلکاروں نے شانہ بشانہ لڑتے ہوئے قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں۔ تاہم شہادت کی صورت میں ان کے ورثاکو کوئی معقول رقم نہیں ملتی تھی۔ دہشت گردوں کے خلاف ان کی نمایاں اور اہم کردار کے پیش نظر سمری تیار کرکے حکومت کو بھیجوا دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملاکنڈ اور ہزارہ ریجنز میں ٹریفک وارڈن کی بھرتی کے لیے قوائد وضوابط کو آخری شکل دیکر منظوری کے لیے حکومت کو ارسال کردیئے گئے ہیں،جن کی باقاعدہ منظوری کے بعد ان ریجنوں میں ٹریفک وارڈنوں کی بھرتی کا عمل شروع کیا جائیگا۔