اسلام آباد،8جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ میتوں کی تدفین ہوتے ہی وزیراعظم عمران خان کوئٹہ جائیں گے، وزیراعظم تفرقہ بازوں اور دہشت گردوں کو ختم کرنے کا عزم رکھتے ہیں، بعض طاقتیں اہل تشیع اور سنیوں میں غلط فہمیاں اور تصادم پیدا کرنا چاہتی ہیں۔
جمعہ کو پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ مچھ میں ہونے والے سانحہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، ہزارہ برادری کو نشانہ بنانے میں بعض طاقتیں ملوث ہیں۔اسلام آباد، سرگودھا اور کراچی سے گروہ پکڑے گئے ہیں جو شیعہ سنی فسادات کرانا چاہتے تھے۔
شیخ رشید احمد نے کہا کہ لواحقین کے تمام مطالبات منظور کر کے وزیراعظم کو رپورٹ دے دی تھی۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہو لیکن بعض لوگ سمجھ نہیں رہے اور اس معاملے کو سیاسی ایشو بنانا چاہتے ہیں جبکہ وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا جا چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ جیسے ہی یہ مسئلہ طے ہوگا وزیراعظم کوئٹہ کے دورہ پر جائیں گے،وزیراعظم تدفین کے عمل کے ساتھ ہی کوئٹہ پہنچ جائیں گے۔ ان کے جانے میں تاخیر کے حوالے سے کچھ ایسی چیزیں ہیں جو منظر عام پر نہیں لائی جا سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ میتوں کی تدفین کوئی شرط نہیں ہے البتہ بعض ایسے معاملات ہیں جو منظر عام پر نہیں لائے جا سکتے۔ وزیراعظم کی خواہش ہے کہ وہ بہتر ماحول میں وہاں جائیں اور ان کے جانے سے سکیورٹی کے ایشوز کی وجہ سے کوئی ایسی صورتحال پیدا نہ ہو جو مناسب نہ ہو۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ دو وزراءزلفی بخاری اور علی زیدی وہاں موجود ہیں، امید ہے بات کسی اچھی طرف نکلے گی۔ اس کے علاوہ 7 افغان شہدا کو بھی وہی معاوضہ دیں گے جو پاکستانی شہدا کو دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہزارہ برادری کے لوگوں کو خطرہ ہے اور انہیں سکیورٹی فراہم کی گئی ہے، ایف سی کو بھی وسیع پیمانے پر سرچ کا حکم دے دیا گیا ہے، حکومت ہزارہ کمیونٹی کے مقتولین اور شہید ہونے والے جوانوں کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائے گی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ میتوں کی تدفین کا عمل احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہئے، میتیں سب کی سانجھی ہوتی ہیں، ہم نے اس سلسلے میں علماءسے تعاون مانگا ہے۔ ایم ڈبلیو ایم اور شیعہ علما و سکالر بھی بات چیت کر رہے ہیں، امید ہے بہتر نتائج نکلیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر ہے، اسلام آباد، لاہور، کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں خطرات موجود ہیں، بھارت اور را کے ایجنٹ اور دوسروں کے پے رول پر کام کرنے والے دہشت گردی کے لئے سرگرم ہیں۔ مذہبی رہنماؤں سمیت 20 افراد کی سکیورٹی کو خطرات ہیں۔ لواحقین کے مطالبات مانتے ہوئے ساری انتظامیہ معطل کر دی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کون سا گروہ مچھ کے اس واقعہ میں ملوث ہے۔ داعش کا نام بھی آ رہا ہے، اس کے علاوہ اور بھی نام ہیں۔ بعض طاقتیں اہل تشیع اور سنیوں میں غلط فہمیاں پیدا کرنے میں ملوث ہیں جبکہ حکومت ہزارہ کمیونٹی کے ساتھ کھڑی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں تمام پولیس ناکے ختم کئے جائیں گے، ایگل سکواڈ دستے تشکیل دیئے جائیں گے۔اس کے علاوہ 192 ملکوں کا ویزا آن لائن کر دیا ہے، اس سے کرپشن کا خاتمہ ہوگا۔ پہلا شناختی کارڈ مفت دیا جائے گا جبکہ اداروں کو بھی بہتر بنایا جائے گا۔











