ایف بی آر کا ٹریک اینڈ ٹریس نظام  جولائی سے فعال ہوجائیگا ، پہلے تمباکو اور پھر دیگر اشیا کو شامل کیا جائے گا،سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کوبریفنگ

60

اسلام آباد۔15فروری  (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کوبتایاگیاہے کہ فیڈرل بورڈآف ریونیو (ایف بی آر) کا ٹریک اینڈ ٹریس نظام  جولائی سے فعال ہوجائیگا پہلے تمباکو اور پھر دیگر اشیا کو شامل کیا جائے گا۔کمیٹی کااجلاس  چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق حامد نائیک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر شیری رحمان کے 6مئی 2019کو متعارف کرائے گئے آئینی ترمیمی ایکٹ 2019، سینیٹر محمد جاوید عباسی کے 17اگست 2020کو سینیٹ اجلاس میں متعارف کرائے گئے کمپنیز ترمیمی بل 2020کے علاوہ ایف بی آر سے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر تفصیلی بریفنگ لی گئی اجلاس میں سینیٹر محمد جاوید عباسی کے کمپنیز ترمیمی بل 2020 کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ دنیا بھر میں کارپوریٹ سماجی ذمہ داریوں  کا قانون موجود ہے، پاکستان میں سیکورٹیز اینڈایکسچینج کمیشن کی رہنماہدایات ہیں مگر قانون نہیں ہے۔ پاکستان میں مختلف کمپنیاں اربوں روپے کاکاروبار کر رہی ہیں اور ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان علاقوں اور وہاں کی عوام کیلئے کوئی فلاحی کام کریں۔کمپنیوں کو پابند بنایا جائے کہ وہ اپنے کل منافع کا 2 فیصد علاقے کی فلاح وبہبود پر خرچ کریں۔انہوں نے کہا کہ کارپوریٹ سوشل ریسپانسبیلٹی کے تحت کمپنیز ایکٹ میں واضح تعریف نہیں ہے۔جس پر ایف بی آر حکام نے کہا کہ شرح منافع پر ٹیکس کا لگنا قانون کے مطابق ہے اورورکرز ویلفیئر فنڈ اور ورکرز پروٹیکشن فنڈز پر 7 فیصد ٹیکس چھوٹ ہے۔کارپوریٹ ریسپانسبیلٹی پر 2 فیصد ٹیکس چھوٹ دینگے تو محصولات متاثر ہونگیں۔ایس ای سی پی حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ایس ای سی پی کی باقاعدہ کارپوریٹ سوشل ریسپانسبیلٹی کی گائیڈ لائینزموجود ہے۔ہم اس حوالے سے کمپنیوں کو گائیڈ لائینز جاری کرتے ہیں۔کئی کمپنیاں اس حوالے سے سی ایس آر کے تحت کام بھی کررہی ہیں۔دنیا میں سوائے بھارت   کے کہیں کارپوریٹ سوشل ریسپانسبیلٹی لازمی نہیں ہے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان میں کمپنیوں کی تعداد 650 سے 530 پر آگئی ہیں۔اگر ہم سی ایس آر کو لازمی کردیں گے تو کمپنیاں مزید کم ہوجائینگی۔ایڈیشنل سیکرٹری وزارت خزانہ نے کہا کہ وزارت خزانہ بھی اس بل  کی حمایت نہیں کرتی   اس سے مسائل پیدا ہونگے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ دنیا میں عوام کی فلاح و بہبود اور بنیادی سہولیات ریاست دیتی ہے۔بل بہت اچھا ہے بہتریہی ہے کہ کمپنیوں پر منافع کا ایک فیصد عوامی فلاح کے منصوبوں پر خرچ کرنے اورکمپنی بورڈ میں مقامی سماجی ورکرز کو شامل کیا جائے۔ایف بی آر کے  حکام نے کمیٹی کوٹریک اینڈ ٹریس نظام پربریفنگ دی  اور بتایا کہ سسٹم کی تاریخ 1845 میں یورپ سے شروع ہوئی۔ سب سے پہلے ترکی نے شروع کیا اور ہم نے اس سسٹم کو لیٹ اختیارکیا۔تمباکو کے حوالے سے 2008 میں پہلی اور2019 تک پانچ دفعہ کوشش کی گئی مگر کامیابی نہ ہوئی جس کی بڑی وجہ تکنیکی استعدادکی کمی اور صنعتیں بھی تیار نہیں تھیں۔ اس دفعہ اچھی طرح سٹڈی کی ہے خامیوں کو دور کر کے رولز بنائے ہیں ، یہ نظام جولائی سے فعال ہوجائیگا۔