وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے سوات زرعی یونیورسٹی کے قیام کیلئے ماسٹر پلان کی منظوری دے دی۔ 

79

 پشاور۔25 فروری(اے پی پی): وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے سوات یونیورسٹی آف ایگریکلچر کے قیام کیلئے ماسٹر پلان کی منظوری دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو منصوبے کا تفصیلی تخمینہ لاگت اور پی سی ون جلد سے جلد تیار کرکے متعلقہ فورم کی منظوری کیلئے پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے رواں سال جون کے پہلے ہفتے میں منصوبے کا باضابطہ سنگ بنیاد رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو اس مقصد کے لئے تمام تر انتظامات اور لوازمات کو بروقت حتمی شکل دینے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ مجوزہ زرعی یونیورسٹی کے قیام سے نہ صرف شعبہ زراعت میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم و تحقیق کو فروغ ملے گا بلکہ یہ منصوبہ خطے میں زرعی پیداوار کی قدر و معیار میں اضافہ کے ساتھ ساتھ روزگار کے فروغ میں بھی ممد و معاون ثابت ہوگا۔ وہ وزیراعلیٰ ہاو ¿س پشاور میں زرعی یونیورسٹی سوات کے قیام کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدار ت کر رہے تھے۔ صوبائی وزیر زراعت و لائیوسٹاک محب اللہ خان کے علاوہ متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگراعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو زرعی یونیورسٹی سوات منصوبے کے قیام کے لئے تیار شدہ ماسٹر پلان اور دیگر پہلوﺅں کے بارے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ یونیورسٹی ابتدائی طور پر 424 کنال وسیع قطعہ اراضی پر تعمیر کی جائیگی، جس میں تقریباً پانچ ہزار طلباءو طالبات کو تعلیم و تحقیق کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ منصوبے کے لئے درکار زمین کی خریداری کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔ یونیورسٹی میں پانچ مختلف فیکلٹیز کے تحت 23 ڈیپارٹمنٹس قائم کئے جائیں گے۔ اجلاس میں منصوبے کے ماسٹر پلان کی منظوری دی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ یونیورسٹی میں ابتدائی طور پرسات ترجیحی شعبوں میں کلاسوں کا اجراء کیا جائیگا، جن میں ماونٹین ہارٹیکلچر، لائیو سٹاک ، فشریز ، فوڈ ٹیکنالوجی ، پلانٹس پروٹیکشن اور دیگر شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ نے 15 اپریل تک منصوبے کا پی سی ون متعلقہ فورم سے منظور کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونیورسٹی کے قیام کے لئے تعمیراتی کام مرحلہ وار مکمل کیا جائیگا ۔ پہلے مرحلے میں ایڈمن بلاک ،اکیڈمک بلاک اور رہائشی ہاسٹلز تعمیر کئے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ رواں سال جون تک منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کے لئے تمام تیاریاں مکمل کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ پورے ملاکنڈ ڈویژن کے لئے نہایت اہمیت کا حامل ہے جس کے قیام سے خطے میں زراعت ، باغبانی، ماہی پروی اور دیگر شعبوں کو جدید طرز پر فروغ دے کر لوگوں کے معیار زندگی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کو زرعی پیداوار میں خود کفیل بنانے کے لئے بھی اس یونیورسٹی کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔