لاہور،11 فروری (اے پی پی): قائم مقام گورنر اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویزالہٰی کی زیر صدارت جمعرات کو یہاں گورنر ہاؤس میں خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا ،اجلاس کے دوران صوبہ بھر میں خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے محکمہ صحت اور محکمہ پاپولیشن ویلفیئر کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
اس موقع پر چوہدری پرویز الہٰی نے کہا خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، خاندانی منصوبہ بندی کیلئے معاشرہ میں شعور کی بیداری وقت کی اہم ضرورت ہے جبکہ خاندانی منصوبہ بندی کیلئے ویلیج کمیٹیاں بنیادی کردار ادا کریں گی۔
انہوں نے کہاکہ خاندانی منصوبہ بندی کے ماڈل کو کامیاب بنانے کیلئے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کا اجلاس جلد بلایا جائے گا، خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے معاشرہ کو ذہنی طور پرمنطقی بنیادوں پر قائل کرنا ہوگا،کسی بھی ملک کی ترقی کا دارومدار اس کی آبادی کے تناسب پر ہوتا ہے۔
اس موقع پر صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا شہروں کی نسبت دیہاتی علاقوں میں آبادی کے تناسب کی شرح بہت زیادہ ہے، لیڈی ہیلتھ ورکرز کے ذریعے دیہاتی خواتین میں بیداری شعور کیلئے ازسرنوانتہائی مؤثر آگاہی مہم کا آغاز کریں گے۔ بچے کی پیدائش میں مناسب وقفہ ماں اور بچے کی صحت کی ضمانت ہوتا ہے، محکمہ صحت پنجاب خواتین کیلئے ماں کے دودھ کی اہمیت بارے بھی آگاہی مہم چلا رہا ہے، صوبہ بھر میں خاندانی منصوبہ بندی کے حوالہ سے شعور کی بیداری کیلئے محکمہ صحت پنجاب کے50ہزار سے زائد لیڈی ہیلتھ ورکرزو دیگر عملہ فرائض سرانجام دے رہا ہے جبکہ خاندانی منصوبہ بندی کے حوالہ سے پنجاب اسمبلی کا فورم بہت اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
صوبائی وزیر پاپولیشن ویلفیئر کرنل(ر) ہاشم ڈوگر نے کہا پاکستان کواس وقت آبادی کے لحاظ سے بہت زیادہ چیلنجز کا سامنا ہے۔خاندانی منصوبہ بندی کے حوالہ سے تمام سٹیک ہولڈرز کو اپنا کردار ادا کرناہوگا، محکمہ پاپولیشن ویلفیئر نے صوبہ بھر میں 600نئے فیملی ویلفیئر سینٹرز کا آغاز کیا ہے، خاندانی منصوبہ بندی کے حوالہ سے پنجاب اسمبلی میں ڈبیٹ ہونی چاہیے۔











