اسلام آباد ،25 فروری (اے پی پی ):وزیر اعظم کو ملک میں گندم کی اگلے مالی سال 22-2021 کی پیداوار، کھپت اور ضروریات کے تخمینوں کے بارے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ مستقبل کی ضروریات اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ابھی سے جامع منصوبہ بندی کی جائے۔ذخیرہ اندوزی اور منافع خوروں کے خلاف سخت ترین قانونی اقدامات اٹھائے جائیں کوشش کی جائے کہ غریب آدمی پر مزید کسی قسم کا اضافی بوجھ نہ پڑےصوبوں کے مابین روابط مزید مستحکم کیے جائیں تاکہ قیمتوں میں فرق ختم کیا جا سکے۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ کھیت سے مارکیٹ تک منتقلی اور تمام دیگر عوامل میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال عمل میں لایا جائے تاکہ سسٹم کو شفاف بنایا جا سکے اور کسان اور صارفین دونوں کو اچھی قیمت مل سکے, خورد ونوش کی اشیا کے لیے جدید خطوط پر ذخیرہ کرنے کے لیے گوداموں کی تعداد بڑھائی جائے ۔
اجلاس میں وفاقی وزراء مخدوم خسرو بختیار، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، سید فخر امام، مشیر ڈاکٹر عشر ت حسین، معاونین خصوصی ندیم بابر، ڈاکٹر وقار مسعود، تابش گوہر، گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر، بنجاب کے وزیر خوراک عبدالعلیم خان، وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت، چیئرمین ایف بی آر اور اعلی حکام شریک اور چیف سیکریٹری بنجاب اور خیبر پختونخوا ویڈیو لنک سے شریک ہوئے ۔











