اسلام آباد،12مارچ (اے پی پی):وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اپوزیشن سینیٹ انتخابات کے نتائج سے راہ فرار اختیار کرنے کے لئے حیلے بہانے ڈھونڈ رہی ہے، سینیٹ الیکشن جمہوری عمل کا حصہ ہے، ہم چھوٹے صوبے اور انضمام شدہ پسماندہ علاقے سے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا امیدوار لے کر آئے، اپوزیشن والوں کو چاہئے تھا کہ وہ چھوٹے صوبے کے امیدوار کے مقابلے میں اپنا امیدوار نہ لاتے لیکن انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں، اپوزیشن مختلف ڈرامہ بازی کر کے ٹی وی سکرین پر زندہ رہنا چاہتی ہے، گزشتہ روز بھی اپوزیشن نے ڈرامہ کرنے کی کوشش کی تھی، آج بھی سینیٹ میں اپوزیشن ارکان نے ایک اور ڈرامے کی کوشش کی جو فلاپ ہو گیا۔
یہ بات انہوں نے جمعہ کو یہاں پارلیمنٹ ہائوس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اپوزیشن شکست سے گھبرا گئی ہے اور راہ فرار اختیار کرنے کے لئے حیلے بہانے ڈھونڈے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ الیکشن ایمان اور کفر کی جنگ نہیں، پی ڈی ایم ہار کو بردداشت کرنے کا بھی حوصلہ پیدا کرے، کیونکہ انہیں اپنی شکست نظر آ گئی ہے جس کے لئے انہوں نے خفیہ کیمروں کا ڈرامہ رچایا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے نادان ساتھیوں کو کہنا چاہتے ہیں کہ وہ جتنا مرضی شور مچا لیں، واویلا کرلیں، بڑے بڑے محلوں اور میڈیا کی سکرین پر جگتیں اور الزامات لگا کر زندہ رہنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سینیٹ الیکشن کے اس عمل کو پرامن رکھنا چاہتے ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ سینیٹ کا تقدس بحال رکھا جائے۔
ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سینیٹ وفاق کی علامت ہے، ہم نے چھوٹے صوبے سے چیئرمین کا امیدوار نامزد کیا، یہ امیدوار تمام محب وطن اتحادی جماعتوں کا متفقہ امیدوار ہے اور ڈپٹی چیئرمین کے لئے فاٹا کے ضم شدہ ضلع سے ان اضلاع کے احساس محرومی کو ختم کرنے کے لئے میدان میں لایا گیاہے۔ اپوزیشن کو چاہئے تھا کہ وہ ان پسماندہ علاقوں کا احساس کرتے ہوئے اپنے امیدوار کو ان کے مقابلے میں نہ لاتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے واضح پیغام دیا ہے جو وزیراعظم عمران خان کی اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ نظر انداز شدہ پسماندہ اضلاع صوبوں اور شہریوں کو گلے سے لگایا جائے اور ان کا احساس محرومی دور کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو اب یقین ہو گیا کہ اب ان کی دال نہیں گلے گی تو انہوں نے نوٹ کے سہارے سے الیکشن میں مصنوعی طور پر زندہ رہنے کی کوشش کی ہے۔ پی ڈی ایم کو اچھی طرح سے پتہ ہے کہ حکومت وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ڈٹ کر کھڑی ہے، ہر محاذ پر ان کی چال بازیوں اور مکاریوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اور انہیں ہر پچ پر شکست فاش دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ واویلا اور گھبراہٹ میں الزام تراشیوں کا جو سلسلہ انہوں نے شروع کیا ہے، اس سے باہر نکل کر مقابلہ کریں۔ مقابلے میں شکست بھی ہوتی ہے اسے تسلیم کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔
ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کھسیانی بلی کھمبہ نوچے کے مصداق خود ہی ایسی وارداتیں کر کے خود ہی اس کو بے نقاب کرنے کا جو طریقہ واردات انہوں نے دوہرایا ہے، ہمیں امید ہے کہ صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ بن کر اس حوالے سے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیں گے اور اسے مینڈیٹ دیں گے کہ وہ سی سی ٹی وی فوٹیج کو چیک کرے تاکہ (ن) لیگ نے میڈیا کی سکرین کو قبضہ میں رکھنے کے لئے صبح سے جو ڈرامہ بازی تیار کی ہے اس کا تدارک اور ازالہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ آج یوسف رضا گیلانی کو برادر یوسف پر نظر رکھنے کی ضرورت پڑے گی کیونکہ (ن) لیگ کی شکل میں جو کردار باہر کھڑے ہیں اور ان کے حمایتی بن رہے ہیں وہ برادر یوسف ثابت ہوں گے۔











