جب بھی جمہوریت کی بات آئے گی تو وزیر اعظم  اتحادی جماعتوں کو اپنے ساتھ پائیں گے؛ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا

116

اسلام آباد،6مارچ  (اے پی پی):ہفتہ کو قومی اسمبلی میں اعتماد کی قرارداد کی منظوری کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ انہوں نے پہلے سے زیادہ ووٹ حاصل کئے ہیں۔  اتحادیوں نے وزیراعظم پر اعتماد کا اظہار کیا ہے یہ خوش آئند بات ہے۔ اتحادی جماعتیں کسی بھی حکومت کی بہت بڑی طاقت ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم گلے شکوے بند کمرے میں کریں گے مگر جب بھی جمہوریت کی بات آئے گی تو آپ اتحادی جماعتوں کو اپنے ساتھ پائیں گےوزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ بلوچستان اور سندھ کے پسماندہ علاقوں کی طرف توجہ دی جائے، انتخابی‘ عدالتی‘ پولیس اور ایف بی آر اصلاحات وقت کا اہم تقاضا ہے، وزیراعظم، قائد حزب اختلاف سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان کی عزت و توقیر کی جائے اور پارلیمنٹ کو قواعد کے تحت چلایا جائے تاکہ اس ادارے پر عوام کا اعتماد متزلزل نہ ہو۔

 وفاقی وزیر نے کہا کہ سینٹ الیکشن کے اعلان کے بعد جو ماحول پیدا ہوا ہم چاہتے تھے کہ یہ الیکشن صاف شفاف ہونا چاہیے۔ اگر ایک میکنزم اس حوالے سے اختیار کیا جاتا تو ہمیں عدالتوں کا رخ نہ کرنا پڑتا نہ ہی یہ صورتحال درپیش ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ اور شفافیت کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ میثاق جمہوریت کا یہی تقاضا تھا کہ شفاف انتخابات کے حوالے سے بل پارلیمنٹ سے منظور ہوتا۔

 انہوں نے آرٹیکل 218 کی ذیلی شق 3 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ صاف شفاف اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے مگر ہم ملک کو کس طرف لے گئے۔ سندھ اسمبلی میں 7 مشکوک ووٹ جیسے ڈالے گئے یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ اگر ایسے ہی چلنا تھا تو میثاق جمہوریت پر دستخط کیوں کئے گئے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ جو بھی الیکشن ہوں عوام کا ان پر اعتماد ہونا چاہیے۔

 ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ پارلیمنٹ ایسا باوقار ادارہ ہے جو ہر ادارے کو طاقت دیتا ہے، میں نے بطور سپیکر کوشش کی تھی۔ اس ادارے کو ذاتی اور اپنے مفادات کی بجائے عوامی مفادات کے لئے استعمال ہونا چاہیے۔ ۔ اس ادارے کو آئین کے تحت چلانا ہے۔ اب سپیکر کی کرسی کا گھیراو کیا جاتا ہے اس سے آنے والی نسلوں کو کیا پیغام جائے گا۔ عوام کا اس پارلیمنٹ اور سیاستدانوں پر اعتماد ختم ہوتا جارہا ہے تو اس کے ہم سب مجرم ہیں۔ انہوں نے سپیکر سے کہا کہ اس ایوان کو قواعد کے تحت چلایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ،قائد حزب اختلاف، پارٹی سربراہوں کی عزت کی جائے۔ اس سے بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے لئے معیشت‘ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں‘ پلوامہ اور کورونا جیسے بہت بڑے چیلنجز تھے۔ حکومت نے کورونا کو جس طرح ہینڈل کیا مبارکباد کی مستحق ہے۔