قومی ترقی میں ٹیکنالوجی اور تکنیکی تعلیم بہت اہمیت کی حامل ہے؛وزیراعظم عمران خان

69

اسلام آباد، 19مارچ  (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ 30 سال میں ملک کا پیسہ چوری کیا گیا ، سندھ حکومت بنڈل آئی لینڈ جزیرے میں سرمایہ کاری کی اجازت نہیں دے رہی ، زرعی شعبہ کی ترقی کیلئے بڑا منصوبہ لائیں گے ، مشکل حالات سے نکل آئے ہیں، جب حکومت سنبھالی تو ملک و کو معاشی مشکلات کا سامنا تھا،دوست ملکوں کے تعاون سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، معاشی چیلنجز پر قابو پایا ،،سیاحت کاشعبہ ترقی کرے گا تو عوام کے لئے روزگار کے مواقع بڑھیں گے،ٹیکنالوجی اور تکنیکی تعلیم بہت اہمیت کی حامل ہے،ایسے منصوبے لگارہے ہیں جس سے ملکی دولت بڑھے گی۔

  ان خیالات کااظہارانہوں نے جمعہ کو یونیورسٹی آف مالاکنڈ کے نئے بلاک کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیاکی ساری یونیورسٹیز دیکھ چکا ہوں،نمل یونیورسٹی پاکستان کی آکسفورڈیونیورسٹی بنے گی۔القادر نیورسٹی کی بھی ستمبر میں بھی  تکمیل ہو جائے گی، انہوں نے کہا کہ انسان اشرف المخلوقات ہے،انسان کو دنیا میں آنے کا مقصد سمجھنا ہو گا،انسان صرف اپنے لئے جیے تو ان  کاکوئی مقصد نہیں، پیسہ خوشی نہیں دیتا، خوشی اس وقت ملتی ہے جو سیدھے راستے پر چلتا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا  کہ ٹیکنالوی اور تکنیکی تعلیم بہت اہمیت کی حامل ہیں، نوجوانوں کو تکنیکی تعلیم دے کر روزگار مہیا کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی تعلیم کا معاشرے پر بہت بڑا اثر پڑتا ہے، پڑھا لکھا معاشرہ قوموں کو ترقی دیتا ہے ، ہم بہت مشکل حالات سے نکل آئے ہیں،  جب حکومت سنبھالی تو ملک و کو معاشی مشکلات کا سامنا تھا،دوست ملکوں کے تعاون سے معاشی چیلنجز پر قابو پایا، دوست ممالک نے مدد کی اور ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا ۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایسے منصوبے لگارہے ہیں جس سے ملکی دولت بڑھے گی، ملک میں 2 بڑے ڈیم بنائے جا رہے ہیں، ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہاؤسنگ کے شعبہ کو بہت اہمیت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ساحت کا شبہ پاکستان کو بہت ترقی دے سکتا ہے،سیاحت کاشعبہ ترقی کرے گا تو عوام کے لئے روزگار کے مواقع بڑھیں گے،ملایشیا 20 ارب ڈالر اور ترکی 40سیاحت سے کماتا ہے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے ٹیکنالوجی وتکنیکی تعلیم کو ترقی دینی ہے، ماضی میں اس طرف توجہ نہیں دی گئی ،اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ہر طرح کی نعمت سے نوازا ہے، انہوں نے کہا کہ ترقی کے لئے ہمیں صرف نئے سوچ اپنانے کی ضرورت ہے ،زراعت کے شعبے میں نئی سوچ لے کر آ رہے ہیں۔ صنعتی شعبہ کی فروغ کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا ۔ پاکستان میں کسی چیز کی کمی نہیں ہمیں اپنی سوچ تبدیل کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ 3ارب ڈالر کا سالانہ خوردنی تیل درآمد کیا جاتا ہے ، زیتون کی کاشت سے خوردنی تیل کی پیداوار میں اضافہ ہوگا ۔ تعمیراتی شعبہ کو بھر پور سہولیات دی جا رہی ہیں جس سے روز گار کے نئے مواقع پیدا ہونگے۔