اسلام آباد۔9مارچ (اے پی پی):وفاقی کابینہ نے سٹیٹ بنک کی آپریشنل اور انتظامی خودمختاری کو یقینی بنانا، دائرہ کاراور اختیارات کو بڑھا نے کے لئے سٹیٹ بنک آف پاکستان (ترمیمی) بل 2021کے مسودے ،پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن ایکٹ کے مجوزہ قانون کے مسودے ،مجوزہ انکم ٹیکس ( دوسری ترمیم) بل 2021کے مسودے ، سٹیٹ اونڈ انٹر پرائزز (گورننس اینڈآپریشنز) بل 2021 ، سارک کوویڈ 19ایمرجنسی فنڈ میں30لاکھ ڈالر عطیہ دینے اور تقسیم کے طریقہ کار سمیت مختلف تقرریوں کی منظوری دیدی ہے جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہےکہ ہماری حکومت نے سینٹ کے شفاف انتخابات کے لئے سنجیدہ کوشش کی تاہم الیکشن اسی دن غیر متنازعہ ہونگے جب اوپن بیلٹ سے الیکشن ہونگے۔ ہم تاریک قوتوں کو شکست دینے کے لئے پورا زور لگائیں گے ‘صادق سنجرانی چیئرمین سینٹ کا الیکشن جیتیں گے ۔ وہ منگل کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دے رہے تھے ۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے بتایا کہ کابینہ کو اسلام آباد میٹرو بس پروجیکٹ پر بریفنگ دی گئی ،میٹرو بس منصوبے میں تاخیر کے امور کا جائزہ لیا گیا ۔کابینہ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن ایکٹ کے مجوزہ قانون کے مسودے کی اصولی طور پر منظوری دیتے ہوئے مسودہ کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کو بھجوانے کی منظوری دی۔ اس مجوزہ قانون کے تحت اکیڈمی آف ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ مینجمنٹ (Academy of Educational Planning and Managment) اور نیشنل ایجوکیشن اسیس منٹ سسٹم ( National Education Assessment System) کا انضمام کرکے ایک جدید ادارے کا قیام عمل میں لایا جائے گا جو تعلیمی اداروں کا ڈیٹا بیس اور تعلیمی اداروں کے معاملات کو منظم کرنے میں ذمہ داریاں ادا کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ سکولوں سے باہر بچوں کے حوالے سے کابینہ نے آئوٹ آف سکول چلڈرن فریم ورک کی بھی منظوری دی۔ اس فریم ورک کے تحت ان تمام عوامل اور محرکات کا جائزہ لیا جا رہا ہے جس کے باعث بچے سکول نہیں جا پاتے ۔ اس فریم ورک میں آئوٹ آف سکول چلڈرن کو سکولوں میں واپس لانے کے لئے حکمت عملی بھی تجویز کی گئی ہے۔ کابینہ نے سٹیٹ بنک آف پاکستان (ترمیمی) بل 2021کے مسودے کی منظوری دیتے ہوئے اسے پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنے کی منظوری دی۔اس بل کا مقصد سٹیٹ بنک کی آپریشنل اور انتظامی خودمختاری کو یقینی بنانا، دائرہ کاراور اختیارات کو بڑھاناہے۔ کابینہ نے حکومت پاکستان کی جانب سے سارک کوویڈ 19ایمرجنسی فنڈ میں مہیا کردہ عطیہ کی تقسیم کے طریقہ کار کی منظوری دی۔ واضح رہے کہ کابینہ نے حکومت پاکستان کی جانب سے سارک کوویڈ 19فنڈ میں تیس لاکھ ڈالر عطیہ کیے جانے کی منظوری دی تھی۔ فنڈ کے قیام کے وقت یہ طے پایا تھا کہ اس فنڈ کی تقسیم سارک سیکرٹریٹ کے توسط سے کی جائے گی تاہم بعد ازاں سارک ممبر ممالک کی جانب سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہر ممبر کی جانب سے فراہم کردہ عطیات کی دو طرفہ بنیادوں پر تقسیم کی جائے گی۔ لہذا کابینہ نے پاکستان کی جانب سے سارک فنڈ میں دیے جانے والے عطیے کی نئے طریقہ کار کے مطابق تقسیم کے نئے طریقہ کار کی منظوری دی۔ کابینہ نے نیپرا ٹریبیونل میں ممبر فنانس کے حوالے سے حکومت سندھ کی جانب سے سفارش کردہ امیدواروں کی اہلیت و تجربے کو مد نظر رکھتے ہوئے پیش کی جانے والی تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔ کابینہ نے فیڈرل میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹس آرڈیننس کے تحت شیخ زید پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ اور جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سنٹر کے بورڈ آف گورنر ز کے ممبران کی تعیناتی کی منظوری دی۔ کابینہ نے اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز لائسنسز کے حوالے سے 41نئے لائسنسز کے اجرا، 07کی تنسیخی، 05کے تبادلے اور دائرہ کار کے ایک کیس کی منظوری دی۔کابینہ کو بتایا گیا کہ بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کی جانب سے اب تک گیارہ لاکھ لوگوں کو بیرون ملک بھجوایا گیا ہے۔ کابینہ نے اعزاز احمد کو منیجنگ ڈائریکٹر نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی تعینات کرنے کی منظوری دی۔”کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے”کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ میں ایک شہری کی جانب سے دائر کردہ ایک رٹ پٹیشن کے حوالے سے کابینہ نے اس رائے کا اظہار کیا کہ چونکہ اس حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل کی واضح رائے موصول ہو چکی ہے، کورونا وائرس کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے تنبیہہ ہوئی ہے جو رجوع اللہ کا تقاضہ کرتی ہے لہذا کورونا کے حوالے سے یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ “کورونا وبا ہے، احتیاط جس کی شفا ہے”۔ کابینہ نے فوزیہ خان کو پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی میں ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (فنانس) تعینات کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ براڈ شیٹ ایوارڈ کمیشن آف انکوائری کے چئیرمین جسٹس (ر) شیخ عظمت سعید نے بطور چئیرمین کسی قسم کا مشاہیرہ لینے سے انکار کر دیا ہے ۔ کابینہ نے ان کے فیصلے کو سراہا۔ کابینہ کمیٹی برائے سی پیک کے 03فروری2021اور 22فروری2021کے اجلاسوں میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے 11فروری 2021کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں اوراقتصادی رابطہ کمیٹی کے 19فروری 2021کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی بھی منظوری دی گئی۔کابینہ نے مجوزہ State Owned Enterprises (Governance and Operations) Bill 2021کے مسودے کی منظوری دی۔کابینہ نے طارق رشید کو ڈائریکٹر جنرل فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائیز ہائوسنگ اتھارٹی تعینات کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے مجوزہ انکم ٹیکس ( دوسری ترمیم) بل 2021کے مسودے ، سٹیٹ اونڈ انٹر پرائزز (گورننس اینڈآپریشنز) بل 2021کی منظوری دی۔ کابینہ نے پاکستان اور روس کے درمیان نارتھ سائوتھ گیس پائپ لائن منصوبے کے حوالے سے معاہدے میں ترمیم کے پروٹوکول کی منظوری دی۔ کابینہ نے قومی ادارہ صحت کے بورڈ آف گورنر ز کی تعیناتی کی منظوری دی۔ کابینہ نے ڈریپ کو کوویڈ 19ویکسین کی ریٹیل پرائس مقرر کرنے کی منظوری دی ۔ یہ قیمت قانون کے مطابق طے شدہ فارمولے کے مطابق مقرر کی جائے گی۔ کابینہ نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے چیف ایگزیکیٹو آفیسر شیخ اختر حسین کو ہٹانے کی منظوری دی۔ کابینہ نے عاصم رﺅف کو ڈریپ قانو ن کے مطابق عارضی طور پر سی ای او ڈریپ تعینات کرنے کی منظوری دی۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیراطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ادارہ جاتی اصلاحات کا عمل تیزی سے جاری ہے ، سرکاری اداروں کے قوانین ، رولز ، اداروں میں رسٹرکچرنگ پر ڈاکٹر عشرت حسین نے بریفنگ دی جس میں بتایا گیا کہ خسارے میں جانے والے سرکاری اداروں کو بہتر کیا گیا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے شفاف انتخابات کے لئے سنجیدہ کوشش کی ہے ‘ سینٹ میں اوپن بیلٹ سسٹم کے لئے ہر آپشن آستعمال کیا ‘مسلم لیگ ن اورپیپلز پارٹی کےدرمیان ہونےوالے میثاق جمہوریت میں بھی یہ لکھا ہے کہ سینٹ الیکشن اوپن بیلٹ ہونا چاہیے ‘ اب قوم کو پتہ چل گیا ہے کہ کون تاریخ کے دائیں اور کون بائیں سمت کھڑا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن اسی دن غیر متنازعہ ہونگے جب اوپن بیلٹ سے الیکشن ہونگے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دو نظاموں کی جنگ ہے ایک وہ ہے جو پاکستان کو پچھلے نظام کی طرف لیکر جانا چاہتے ہیں اور دوسرے ہم ہیں جو الیکشن کو شفاف بنانا چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے سینٹ الیکشن کو غیر متنازعہ بنانے کے لئے ہر آپشن استعمال کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کی ویڈیو اس بات کا اعتراف ہے کہ ووٹوں کی خرید اری ہوئی ہے ، جب الیکشن میں پیسے کا استعمال ہو گا تو ایسے ہی لوگ آئیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا تو ہمیشہ سے یہ ہی وطیرہ رہا کہ جب وہ الیکشن جیتے ہیں تو اداروں کی تعریفیں اور جب ہارتے ہیں تو اداروں پر الزامات لگاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم تضادات کا م مجموعہ ہے ، مولانا فضل الرحمان خود پارلیمان سے باہر ‘ پیپلز پارٹی الگ سودا بازی ‘ ن لیگ میں لیڈر بننے کے لئے فیملی ہنگامے جاری ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے سینٹ الیکشن میں کرپٹ عمل پر سپریم کورٹ میں یوسف رضا گیلانی کے خلاف درخواست دائر کر دی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آج جو لوگ یہ دعوی کر رہے ہیں کہ ہماری سینٹ میں اکثریت ہے انھیں آئینہ دکھانا چاہتے کہ فہرست میں تو بہت سے آزاد امیدوار بھی شامل تھے ۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینٹ اور ڈپٹی چیئرمین سیٹ الیکشن کے لئے ہمارے ساتھ رابطے دوسری طرف سے بھی ہورہے ہیں ‘چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی ہی ہونگے ۔











