اسلام آباد،6مارچ (اے پی پی):وزیر اعظم عمران خان نے اقوام کی ترقی میں اخلاقیات ،نظریہ اور انصاف کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرپشن کے خاتمہ میں پورے معاشرے کا اہم کردار ہے ،یہ کام صرف قوانین سے نہیں ہوسکتا،جزا اورسزا کے تصور کے بغیر انصاف ممکن نہیں، مجرموں کو سزائیں دلانے کے لئے ہماری حکومت نیب اور عدالتوں کودرکار ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
ہفتہ کو قومی اسمبلی سے اعتماد کی قرارداد کی منظوری کے بعد خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ سب سے پہلے اتحادیوں‘ اراکین اور اپنی ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز حالات دیکھے تو حفیظ شیخ کی ہار پر سب تکلیف میں مبتلا تھے ‘ اس وقت ایک ٹیم نظر آنا مجھے بہت اچھا لگا‘ اب ہماری ٹیم مضبوط ہوتی جائے گی۔ اللہ قرآن میں ایمان کو آزمانے کی بات اسے مزید مضبوط کرنے کے لئے کہتا ہے۔ آزمائش سے نکل کر انسان کا ایمان مضبوط ہوتا ہے۔ انسان کو اشرف المخلوقات بنانے کے لئے مشکل وقت کا سامنا کرنے کی شرط لگا دی گئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن کی تمام تر کوششیں این آراو کے لئے ہیں پاکستان کو آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا ، مہنگائی میں کمی اورنچلے طبقہ کی مشکلات دور کرنے کے لئے اقدامات اٹھا رہے ہیں،ہم انتخابی اصلاحات کے تحت الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا نظام لائیں گے تاکہ دھاندلی کی شکایات کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو، پاکستان مشکل دور سے نکل کر اب آگے بڑھ رہا ہے،ہم نے برآمدات میں اضافہ کرنا ہے،راوی سٹی، بنڈل آئی لینڈ اور والٹن بزنس سنٹر جیسے منصوبے شروع کررہے ہیں جس سے ہونے والی آمدن سے قرض واپس کریں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ جب ہم وزن اٹھاتے ہیں تو ہمارا جسم مضبوط ہوتا ہے اسی طرح سیاسی جماعت بھی مشکل وقت سے نکل کر مضبوط ہوتی ہے۔ دنیا میں آسانیاں قوموں کو تباہ کر دیتی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ مشکل وقت سے نکلنے پر پارٹی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اراکین مشکل حالات اور خرابی صحت کے باوجود یہاں پہنچے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان کے قیام کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے کیونکہ نظریہ کے بغیر قوم مر جاتی ہے۔ قوم مقصد کے لئے بنتی ہے، جب تک ہم اپنے بچوں کو اپنے مقاصد نہیں بتائیں گے ، ہماری قیادت کو علم ہونا چاہیے کہ یہ عظیم خواب تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا علامہ اقبال کو نہیں پتہ تھا کہ پاکستان بننے کے بعد 20 کروڑ مسلمان انڈیا میں ہی رہ جائیں گے۔ ان کے خیال میں دنیا کے لئے ایک مثالی اور ماڈل اسلامی ریاست کا خواب سامنے تھا جو قرارداد مقاصد میں مدینہ کی ریاست پر اسلامی فلاحی ریاست کی بنیاد تھی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ریاست مدینہ میں اصول طے تھے کہ اس ریاست کے بعد ایک تقسیم قوم جس کی کوئی حیثیت نہیں تھی یہ اصولوں پر چل کر دنیا میں مثال بن گئی، یہ ایک معجزہ تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں نے وزیر تعلیم کو ہدایت کی ہے کہ ساتویں سے نویں جماعت کے نصاب میں نبیﷺ کی زندگی اور مدینہ کی ریاست کے بارے میں اسباق شامل کریں تاکہ بچوں کو اس ملک کے بننے کا مقصد پتہ چلے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ جو ہو رہا ہے ایسی دلیل دی جاتی تھی ہے کہ اگر پاکستان نہ بنتا تو مسلمان زیادہ طاقت میں ہوتے۔ اگر ہم اس نظریہ پر نہیں چلیں گے تو پھر وہ دلیل درست ہے۔ پاکستان کا خواب عظیم تھا۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کی حیثیت ہی نہیں تھی انہوں نے دنیا کی امامت کی۔ دنیا کو عظیم تہذیب اور ثقافت دی ‘ چوٹی کے سائنسدان دیئے۔ انہوں نے دنیا میں اخلاقی معیار دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ انڈونیشیا، ملائشیا میں مسلمان تاجروں کے کردار سے متاثر ہوکر لوگ مسلمان ہوئے۔ اسلام تلوار سے نہیں کردار کی اصلاح سے پھیلا۔ وزیراعظم نے کہا کہ نماز میں ہم روزانہ یہ پڑھتے ہیں کہ ہمیں سیدھے راستہ پر چلا۔ انہوں نے کہا کہ دو راستے ہیں، ایک تباہی اور ایک نعمتوں کا راستہ ہے۔ دنیا کی سب سے زیادہ نعمتیں حضور نبی کریمﷺ کو بخشی گئیں۔ ان کے راستے پر چلنے والا عظیم انسان بنا۔ انہوں نے کہا کہ انگریز مصنف کی لکھی کتاب ” فاتح عرب” پڑھنے والی کتاب ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ مسلمانوں کی دنیا میں فتح کی کوئی مثال نہیں ملتی، ان کے پاس کوئی جدید ہتھیار نہیں تھے۔ ان کی اخلاقیات، عدل و انصاف، کردار کی وجہ سے لوگ ان کے ساتھ آئے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان میں داتا، بلھےشاہ، بابا فرید، نظام الدین اولیا کے کردار و انسانیت دیکھ کر لوگ مسلمان ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ سینٹ انتخابات پر شرمندگی ہوتی ہے۔ کہاں وہ خواب کہاں خریداروں کی بکرا منڈی بنی۔ انہوں نے کہا کہ ایک ماہ سے علم تھا کہ پیسے جمع کئے جارہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے اچھا الیکشن کروانے کی بات پر مجھے صدمہ پہنچا ہے۔ اگر یہ اچھا انتخاب ہے تو برا انتخاب کون سا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری معیشت، قرضے بیماری کی علامات ہیں، پہلے اخلاقی طور پر تباہی پھر معیشت کی تباہی آتی ہے، کوئی ایسا ملک بتا دیں جہاں اخلاقی گراوٹ سے معاشی حالات بہتر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے عظیم لیڈر نے ان کی اخلاقیات کو اوپر اٹھایا۔ وہ صادق و امین تھے، قرآن ان کی سنت پر چلنے کا کہتا ہے، اس میں ہماری بہتری ہے۔ قرآن رہنما حیات ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے تکلیف ہوتی ہے جب مغربی ممالک میں جاتا ہوں ان کے اخلاقی معیار دیکھ کر شرم آتی ہے کہ افسوس ہوتا ہے کہ ہمارا ملک لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر بنا اور یہاں کیا ہو رہا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آصف علی زرداری جسے پوری دنیا نے کرپٹ ثابت کیا ہے۔ اس ملک میں ایک زرداری سب پر بھاری کے نعرے لگے کیونکہ وہ پیسے دیتا ہے۔ نواز شریف ڈاکو، ملک سے جھوٹ بول کر بھاگا ہوا ہے۔ کابینہ میں چھ گھنٹے اس پر بات ہوئی کہ وہ جہاز پر بھی نہیں چڑھ سکتا‘ شیریں مزاری جیسی مضبوط خاتون کے آنسو نکل آئے، وہاں جاتے ہی صحت یاب ہوگیا، اب وہ خطاب کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا منصوبہ یہ تھا کہ اڑھائی سال سے بڑے بڑے ڈاکو اکٹھے ہو کر عمران خان پر اتنا دباوڈالیں کہ جنرل مشرف کی طرح وہ انہیں این آر او دے دے ۔ جنرل مشرف کے ساتھ سپریم کورٹ، فوج تھی۔ انہوں نے این آر او دے کر ظلم کیا۔ اس وقت اپوزیشن لیڈر مولانا فضل الرحمان اس سے ملا ہوا تھا، یہ این آر او بڑا جرم تھا، دونوں نے اس کے بعد ملک لوٹا، ملکی قرض دو ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 30 ہزار ارب تک پہنچا دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ جب میں وزیراعظم منتخب ہوا تو پہلے روز مجھے ایوان میں تقریر نہیں کرنے دی گئی کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ کرپشن کے کیسز معاف نہیں کرے گا۔ یہ کیسز ہم نے نہیں بنائے ان کے اپنے دور میں بنائے گئے۔ نیب کا چیئرمین ان کا لگایا ہوا تھا۔ پاکستان کا 60 ملین ڈالر سوئٹزرلینڈ میں پڑا ہوا تھا، اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ کی طرف سے کہا گیا کہ وہ یہ پیسے پاکستان واپس لانے کے لئے خط لکھے، یہ پیسہ ان کے باپ کا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہاں اس طرح پھر رہا ہے جیسے نیلسن منڈیلا ہے۔











