کوئی بھی قوم علم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی، القادر یونیورسٹی نوجوان نسل کیلئے رول ماڈل بنے گی؛وزیراعظم عمران خان

102

سوہاوہ،12مارچ (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنا بہت ضروری ہے، کوئی بھی قوم علم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی، دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں اخلاقی اقدار کے بل بوتے پر قوموں نے عروج حاصل کیا اور اخلاقی نظام تباہ ہونے پر وہ معاشرہ تباہ ہوا، القادر یونیورسٹی نوجوان نسل کیلئے رول ماڈل بنے گی، اسلام کے نام پر حاصل کئے گئے ملک اور اقبال کے خواب کی حامل قیادت یہاں سے نکلے گی، مغرب میں ہم سے زیادہ اچھائیاں ہیں، وہاں ادارے مضبوط ہیں، ان کے اخلاق بہتر ہیں، وہاں سچائی ہے لیکن خاندانی نظام اور مذہب سے دوری ان کی تباہی کے اسباب ہیں، علم ہمیں انسان کی کردار سازی اور انسان اور جانور میں فرق بتاتا ہے، ان کے پارلیمان میں ضمیر بیچنے کا تصور بھی نہیں۔

 ان خیالات کا ا ظہار جمعہ کو وزیراعظم عمران خان نے سیرت النبی ﷺ اور صوفیائے کرام کی تعلیمات کے فروغ کے حوالے سے تعمیر کی جانے والی القادر یونیورسٹی کے دورہ کے موقع پرکیا ۔اس موقع پر وزیر اعظم نے القادر یونیورسٹی میں شجر کاری مہم کے تحت پودا لگایا اور یونیورسٹی کے قیام میں پیشرفت کا جائزہ بھی لیا،وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین بھی ان کے ہمراہ تھے۔

 وزیراعظم عمران خان نے ارکان پارلیمنٹ ،دانشوروں اور اسلامی بنکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کی اہمیت ملکی اور معاشی ترقی کیلئے ضروری ہے، ملک میں تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنا بہت ضروری ہے، جس طرح سینٹ کا حالیہ الیکشن ہوا اس میں قوم کے سامنے خریدو فروخت ہوئی اور بکرامنڈی لگی، انصاف کے نظام نے بھی اس پر خاموشی اختیار کئے رکھی، اسی لئے القادر یونیورسٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ ایک ایسی درسگاہ موجود ہو جو انسان اور جانور میں فرق بتائے، انسان کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات پیدا کیا اور فرشتوں کو حکم دیا کہ اس کے سامنے سجدہ ریز ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا رومی نے کہا تھا کہ جب اللہ نے انسان کو پر دیئے ہیں تو پھر چیونٹیوں کی طرح رینگتے کیوں ہو۔

 وزیراعظم نے کہا کہ کوئی بھی قوم علم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی، جانور اور انسان کے درمیان پہچان صرف علم کے باعث ہوتی ہے، ہمارا دین انسانی زندگی میں تبدیلی لے کر آ تا ہے۔انہوں نےمصر کے ایک سکالر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ یورپ کے دورہ سے مصر واپس آیا تو اس نے کہا کہ اسے یورپ میں اسلام تو نظر آیا لیکن کوئی مسلمان نظر نہیں آیا جبکہ اس کے مقابلہ میں مصر میں مسلمان تو بہت نظر آتے ہیں لیکن اسلام نظر نہیں آتا۔

وزیراعظم نے کہا کہ القادر یونیورسٹی کا مقصد دین کو ہماری زندگیوں سے مطابقت پیدا کرنا ہے، القادر یونیورسٹی کو مصر کی الازہر یونیورسٹی کی طرز پر اعلیٰ ادارہ بنانا چاہتے ہیں، نوجوان نسل کیلئے القادر یونیورسٹی رول ماڈل بنے گی، اس یونیورسٹی کے قیام میں ہماری سوچ یہ تھی کہ ایسی یونیورسٹی ہو جو دانشور پیدا کرے، ماضی میں جو چوٹی کے مسلمان سائنسدان تھے انہیں سائنس کے ساتھ ساتھ دین کا فہم بھی تھا تاہم اب دین اور سائنس کو الگ کر دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مشن ہے کہ ہمارے ملک میں ایسی سوچ پروان چڑھے کہ ٹیکنالوجی کے شعبہ میں ترقی کے ساتھ ساتھ روحانی تربیت بھی ہو، انسان کی زندگی میں کوئی وقت ایسا آتا ہے کہ وہ درست راستہ کی بجائے غلط راستے پر چل پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے مغرب کو بہت زیادہ دیکھا ہے وہاں ہم سے زیادہ کئی اچھائیاں ہیں، ان کے ادارے مضبوط ہیں، ان کا اخلاق بہت بہتر ہے، ان میں سچائی ہے، ان کی پارلیمان میں ضمیر بیچنے کا تصور بھی موجود نہیں، وہاں یہ سسٹم نہیں کہ کسی امیدوار کا بیٹا حاصل آفر کر رہا ہو وہاں چھوٹی چھوٹی چیزوں پر کردار نہ ہونے کے سبب نااہلی ہو جاتی ہے ، وہ محنت اور تعلیم میں ہم سے آگے ہیں تاہم ان کا خاندانی نظام تباہ ہے، مذہب سے دوری ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جس قوم کا اخلاقی نظام تباہ ہوا تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں وہ قوم عروج حاصل کرنے کے باوجود تباہ ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ان معاشروںمیں اسباب کی کمی نہیں ہوتی تاہم وہ بدعنوانی کو قبول کر لیتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ دین اسلام میں رہنمائی کیلئے جو قیادت چاہئے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم اس سے محروم ہیں، اسلام کے نام پر بنے ملک اور اقبال کے خواب کے مطابق قیادت اسی یونیورسٹی سے نکلے گی جو یہ تحقیق کریں گے کہ نبی اکرم ﷺ کی مدینہ کی ریاست کا تصور کیا تھا، وہ کون سے اصول تھے جس پر چل کر انہوں نے قوم کو اٹھا دیا، دنیا کی تاریخ میں ا تنی کم مدت میں اتنے عظیم انسان پیدا ہوئے ، یہ سب ان کے کردار کی وجہ سے تھا، وہ معاشرہ کے لیڈر بنے، ان کے بارے میں مغربی مصنفین لکھتے ہیں کہ نہ ان کے پاس کوئی فوجیں تھیں اور نہ ہی جدید ہتھیار تھے لیکن یہ سمجھ سے بالا تر ہے کہ وہ کیسے دنیا پر چھا گئے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں قرآن مجید نبی کریمﷺ کی زندگی سے سبق سیکھنے کا حکم دیتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ القادر یونیورسٹی میں جو تحقیق ہو گی وہ تعلیمی اداروں میں پڑھائی جائے گی، ہمارا نصاب ہمارے دین سے مطابقت نہیں رکھتا، معیاری دانشور قیادت کیلئے یہ یونیورسٹی اہم ثابت ہو گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ علامہ اقبال کی شاعری کا محور قرآن پاک ہے، اس طرح کی سوچ کو ہم نے پروان چڑھانا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یکم ستمبر کو اس یونیورسٹی کا باضابطہ آغاز ہو گا،اس کے بورڈ میں بڑے بڑے محققین کو شامل کیا جائے گا۔