سیالکوٹ02,اپریل( اے پی پی): قتل کے مقدمات میں ملوث تین ملزمان جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے گرفتار۔ترجمان سیالکوٹ پولیس کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سیالکوٹ عبدالغفار قیصرانی کی خصوصی ہدایات اور ڈی ایس پی سٹی سرکل احسان اللہ کی زیر نگرانی ایس ایچ او تھانہ کینٹ سب انسپکٹر شاہد محمود، ایس ایچ او تھانہ نیکا پورہ اور انچارج ہومی سائیڈ یونٹ سٹی سرکل سب انسپکٹر عرفان اشرف نےقتل کے مقدمات میں ملوث تین ملزموں نادر علی، شان علی اور رضا حسین کو جدیدٹیکنالوجی کی مدد سے ٹر یس کر کے گرفتار کرلیا۔ دوران تفتیش یہ بات سامنے آئی مقتول دلاور علی دونوں ملزمان کا حقیقی چچا ہے ۔ جس نے قبل ازیں ملزمان کے والد اور اپنے حقیقی بھائی بہادر علی کو قتل کر کے اسکی بیوی سے شادی کر لی تھی۔ جس کا ملزمان کو رنج تھا۔ ملزمان کے والد مسمی بہادر علی مقتول کے مقدمہ قتل کا مدعی ملزمان کا دادا فقیر سائیں بنا تھا۔ جس نے اپنے بیٹے کو معاف کر دیا تھا ۔ دلاور علی اسی رنج کی بناء پر قتل ہوا ہے ۔ ملزمان سے آلہ قتل پسٹل 30 بور اور موٹر سائیکل برآمد کر لی گئی ہے ۔ مقتول دلاور علی کو اس لیے قتل کر دیا کہ اُس نے ان کے باپ بہادر علی کو قتل کرنے کے بعد ملزمان کی والدہ سے شادی کر لی تھی ۔ جس پر ایس ایچ او کینٹ اور انچارج ہومی سائیڈ یونٹ نے شب و روز محنت کر کے ملزمان کو گرفتار کر لیا ۔ قتل کے دوسرے مقدمہ میں مدعی مقدمہ نے مورخہ 4اگست2020 کو ایف آئی آر درج کروائی کہ میرا بیٹا خواجہ نذیر احمد بعمر 12 سال کو کسی نامعلوم نے اغواء کر لیا ہے
۔ جس کی نعش تھانہ موترہ نہر سے ملی تھی ۔ جس پر انچارج ہومی سائیڈ سب انسپکٹر عرفان اشرف نے جدید تکنیکی بنیادوں پر تفتیش عمل میں لاتے ہو ے اس اندھے قتل کے مقدمہ میں ملوث ملزم رضا حسین نے دوران پولی گراف ٹیسٹ کروا کر گرفتاری عمل میں لائی تو ملزم نے خود ہی اپنے بیٹے کو قتل کر کے نعش کو تھانہ موترہ نہر میں پھینک دیا تھا۔ کیونکہ ملزم نے بتلایا کہ اس کا بیٹا بدفعلی کرواتا تھا اسی وجہ سے میں نے اس کو قتل کر دیا۔











