ملتان، 3اپریل(اے پی پی):وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی ہدایت پر گندم خریداری کی تیاریاں مکمل،ضلع ملتان میں گندم خریداری کے لئے1لاکھ 84ہزار557میٹرک ٹن کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، کاشتکاروں کو باردانہ کی فراہمی7اپریل سے شروع کی جائے گی، کاشتکار500 بیگ تک باردانہ سنٹر سے حاصل کر سکیں گے اور 1000 بیگ تک باردانہ جاری کرنے کا اختیار ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر کو حاصل ہو گا۔
ضلع میں17گندم خریداری مراکز قائم کر دئے گئے ہیں،5مستقل اور12 عارضی گندم خریداری مراکز شامل ہیں، گندم خریداری کے لئے ملتان میں7شجاع آباد اور جلالپور میں پانچ پانچ سنٹر قائم کئے گئے ہیں۔100 کلوگرام والی جیوٹ بوری کی قیمت 288روپے اور50 کلووالے پی پی بیگ کی قیمت64 روپے مقرر کی گئی ہے ،100 کلوگرام والی بوری کے ڈیلیوری چارجز9 روپے فی بیگ ادا کئے جائیں گے۔
ڈپٹی کمشنرعلی شہزاد کی زیرصدارت گندم خریداری کے انتظامات کا جائزہ اجلاس ہوا
اجلاس میں اے ڈی سی ریونیومحمدطیب خان اور اے سیز خواجہ عمیر محمود،محمد زبیر،مدثر ممتاز اور دیگر افسران شریک ہوئے جبکہ ڈی ایف سی احمد جاوید نے بریفنگ دی۔
ڈپٹی کمشنر علی شہزاد نے کہا کہ حکومت نے گندم خریداری کے لئے اوپن پالیسی کا اعلان کیا ہے، حکومت کا فوڈ سیکیورٹی پر فوکس ہے۔ انہوں نے کہا حکومت نےگندم کی قیمت1800 روپے فی 40کلوگرام مقرر کی ہےڈپٹی کمشنر نے کہا کہ گندم کا بھرپور معاوضہ ملنے سے کاشتکار خوشحال ہو گا اور ، کسان کو پیداوار کا پورا معاوضہ ادا کیا جائے گا۔
ڈپٹی کمشنر علی شہزاد نے کہا کہ گندم خریداری مراکز پر کوئی شکایت برادشت نہیں کی جائے گی، اگر کسی اہلکار بارے شکایت موصول ہوئی تو اسے سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ ضلع سے گندم باہر لے جانے پر پابندی ہو گی اور گندم بارے پابندی پر عملدر آمد کے لئے 23 چیک پوسٹیں قائم کی جائیں گی۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ گندم خریداری مراکز پر کاشتکاروں کے بیٹھنے کے لئے بہترین انتظامات کئے جائیں ۔انہوں نے کہا تمام اسسٹنٹ کمشنرز گندم خریداری مراکز کے مسلسل دورے کریں اور انتظامات کا جائزہ لیں۔











