اسلام آباد ،21 اپریل (اے پی پی ):وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے وزٹ کے دوران افسران سے خطاب ,میں نے اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ کے ساتھ بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کے رحجان پر گفتگو کی ،مغرب میں جس طرح شدت پسند طبقہ اسلاموفوبیا کو ہوا دے رہا ہے ہمیں اس پر گہری تشویش ہے،ہم آزادی ء اظہار رائے کے خلاف نہیں ہیں اظہار رائے کے حق کا تحفظ آئین بھی دیتا ہے،لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آزادی ء اظہار رائے کی آڑ میں کسی کی دل آزاری کی جائے، آپ کے علم میں ہے کہ پچھلے دنوں کچھ ایسے بیانات اور خاکے سامنے آئے، جس سے نہ صرف ہماری بلکہ پوری مسلم امہ کی دل آزاری ہوئی پاکستانی قوم ان گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے بعد شدید کرب اور دکھ سے گزری ،پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے اور اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا ہے ،ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ ہم عالمی سطح پر اس کے خلاف آواز بلند کریں ،
وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں اسلاموفوبیا کے خلاف آواز اٹھائی ،سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ ہمارا جو غلامی اور عشق کا دعویٰ ہے اس کا اظہار وزیر اعظم عمران خان صاحب نے اقوام متحدہ کے فلور پر کیا، جھے اللہ تعالیٰ نے مسلم ممالک کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں موقع دیا کہ میں نے اسلاموفوبیا کے خلاف قرارداد پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مسلم امہ کیلئے سعودی عرب کی اہمیت سے سب واقف ہیں ،مجھے انشاء اللہ وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ جلد سعودی عرب جانے کا موقع میسر آئیگا ،سعودی وزیر خارجہ اور سعودی قیادت کے ساتھ بھی اس حوالے سے گفتگو ہو گی۔
میری رائے میں پاکستان،سعودی عرب، ترکی، ایران جب مل کر یہ علم اٹھائیں گے تو مجھے یقین ہے کہ پوری امہ ایک نکتے پر متفق ہو جائے گی۔











