چکوال ، 15 جون (اے پی پی ):بارانی ایگریکلچرریسرچ انسٹیٹیوٹ چکوال میں زیتون کے پودوں کی گرافٹنگ کے حوالے سےایک روزہ ورکشاپ ، بعنوان “جنگلی زیتون پوّند کاری” وزیراعظم کے معاونِ خصوصی جمشید اقبال چیمہ کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔
ورکشاپ سے خطاب میں معاون خصوصی برائے زرعی تحقیق اور غذائی سیکورٹی جمشید اقبال چیمہ نے پراجیکٹ اور زیتون سیکٹر کی کامیابیوں کو سراہا اور 5 کروڑ کا ہدف مقرر کرنے پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے انہوں نے گورنمنٹ اور پرائویٹ سطح پر جدید نرسروں کو قائم کرنے کی ضرورت پر زوردیا۔ انہوں نے کہاکہ لوگوںمیں زیتون کی کمرشل اہمیت کے حوالے سے شعور پایا جاتا ہے اور ہم اس کےلئے نرسریوں کی استعداد بڑھارہے ہیں تاکہ منصوبے کے مطابق پیشرفت کی جاسکے۔
ورکشاپ میں مینیجنگ ڈائریکٹر پاکستان آئل سیڈ ڈولپمنٹ بورڈ ڈاکٹر خیر محمد کاکڑ، نیشنل پراجیکٹ ڈائریکٹر محمد طارق، ڈائریکٹر باری رفیق ڈوگرنے بھی شرکت کی۔ ڈائریکٹر باری نے ٹریننگ کے اغراض و مقاصدبیان کیے اور مہمانان کو خوش آمدید کہا۔ نیشنل پراجیکٹ ڈائریکٹرزیتون ڈاکٹر محمد طارق نے پاکستان میں زیتون سیکٹر کا احوال بیان کرتے ہوئےاس سیکٹر کی کامیابیوں اور درپیش چیلنجز کا ذکر کیا، انہوں نے بتایا گیا کہ اب تک پاکستان میں تیرہ ہزار ہیکٹر رقبہ پر اکتالیس لاکھ زیتون کے پودے لگائے جا چکے ہیں، اور اس کے علاوہ زیتون کے پھل سے تیل نکالنے کے لیے 25 یونٹس نسب کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گورنمنٹ آف پاکستان نے زیتون کی ترقی کےلیے فیزII میں تین سال کے لیے 6.4 ملین روپے مختص کیے ہیں۔ جس میں ایک کروڑ پودے لگانے کے علاوہ 5 ملین جنگلی زیتون کی پوند کاری بھی کی جائے گی۔ باری کے سائنسدان محمد عقیل نے پوند کاری کی تکنیک پر روشنی ڈالی۔
اس موقع پر معاون خصوصی برائے زرعی تحقیق اور غذائی سیکورٹی جمشید اقبال چیمہ نے اپنے ہاتھوں سے زیتون کا پودا لگایا۔
ٹریننگ کے شرکاء کو PEL Farm میں عملی تربیت کے لیے لے جایا گیا، جہاں عقیل فروز نے شرکاء کو اس کام کی باریکیوں سے آگاہ کیا۔دن کے اختتام پر مینیجنگ ڈائریکٹرم PODB ڈاکٹر خیر محمد کاکڑ نے زیتون کی صنعت اور کاشتکاری سے جڑے ہوئے افراد کے مسائل سنے اور انہیں جلد از جلد حل کرنے کی یقین دہانی کروائی۔











